قرآن و حدیث
خلاصہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ کے کچھ معانی بیان ہوئے ہیں، اس مضمون میں دو روایتیں اس سلسلہ میں بیان کی جارہی ہیں اور دونوں حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) سے مروی ہیں۔
خلاصہ: بسم اللہ کے مختلف فائدوں میں سے ایک فائدہ شفایابی ہے، اس سلسلہ میں دو روایتیں بیان کی جارہی ہیں۔
خلاصہ: بسم اللہ پڑھنے کے مختلف فائدوں میں سے کچھ فائدے ایسے ہیں جو قیامت کے دن ظاہر ہوں گے، مندرجہ ذیل مضمون میں تین روایات بیان کی جارہی ہیں۔
خلاصہ: روایات کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ ہر کام کو بسم اللہ سے شروع کرنا چاہیے، ان میں سے تین کاموں سے متعلق روایات کا اس مضمون میں تذکرہ کیا جارہا ہے۔
خلاصہ: انسان جب کسی کام کے متعلق پریشان میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے چاہیے کہ قرآن و روایات کی روشنی میں اس کا حل تلاش کرے، اس مضمون میں اس کا حل بتایا جارہا ہے۔
خلاصہ: مندرجہ ذیل مضون میں دو روایات نقل کی جارہی ہیں جن میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کا ثواب اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ دوسری روایت میں کچھ شرائط بھی بیان کی گئی ہیں۔
خلاصہ: احترام اور تعظیم کے ساتھ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کا اجر اس قدر زیادہ ہے کہ جنت میں پڑھنے والے شخص کے کتنے محل بنائے جاتے ہیں اور کتنی زیادہ تعداد میں حورالعین بیویاں عطا کی جاتی ہیں۔ اس بارے میں مندرجہ ذیل روایت کو اس مضمون میں بیان کیا جارہا ہے۔
خلاصہ: اس مضمون میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا احترام رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے منقول روایت کی روشنی میں بیان ہوا ہے۔
خلاصہ: کام چھوٹا ہو یا بڑا اللہ کی مدد کے بغیر وقوع پذیر نہیں ہوسکتا، لہذا ہر کام میں اللہ کی مدد کی ضررت ہے، بنابریں ہر کام کی ابتدا بسم اللہ سے ہونی چاہیے۔
خلاصہ: ہر کام کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنی چاہیے، لیکن کچھ خاس لوگ ہیں کہ اگر نہ پڑھیں تو اللہ انہیں متوجہ کرتا ہے، وہ کون ہیں اور کیسے اللہ انہیں متوجہ کرتا ہے، اس مضمون میں بتایا جارہا ہے۔