بچوں کی اسلامی تربیت میں ماں باپ کا کردار(۵)

Sun, 11/12/2023 - 11:31

آج بھی ہمارے معاشرہ میں ایسے والدین کی تعداد کم نہیں ہے جنہیں اپنی اولاد کی تربیت کا بالکل احساس ہی نہیں ہے  اور وہ یہ سمجھے بیٹھے ہوئے ہیں کہ ان کے اولادیں بڑی ہوکر خود بخود سیکھ جائیں گی خود بخود تربیت یافتہ ہوجائیں گی ، حالانکہ یہ سوچ بہت بڑا دھوکہ ہے بہت بڑا فریب ہے لہذا ماں باپ کو اپنی اولاد کی اچھی اور صحیح تربیت کے لئے فکرمند ہونا چاہئے اپنی ذمہ داری کو احساس کرنا چاہئے کیونکہ اولاد کی تربیت ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ماں باپ کے سپرد کی گئی ہے ، ان کے کاندھوں پر رکھی گئی ہے اور اسی ذمہ داری کی وجہ سے پروردگار عالم نے والدین کو وہ مرتبہ عطا کیا ہے وہ مقام دیا ہے اور اس ٹائٹل سے نوازا  ہے جو دوسروں کو عطا نہیں ہوا ، ماں باپ کی خدمت اور ان کا احترام بچوں کی ایک اہم ذمہ داری قرار دی ہے ، ماں کے قدموں کے نیچے جنت کو رکھا ہے ، اور یہ سب اس لئے ہے تاکہ وہ عظیم ذمہ داری جو ان کے کاندھوں پر ہے اسے یہ صحیح سے بجا لائیں اس میں کوتاہی نہ کریں اور ایک اہم ذمہ داری بچوں کی صحیح اور اچھی تربیت ہے ، اور اولاد کی تربیت کا پہلا زینہ اپنی اس ذمہ داری کا احساس اور اس بابت فکرمند ہونا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں : اپنی اولاد کا اکرام کرو اور ان کے آداب و کردار کو اچھا بناؤ۔ (۱)

تربیت کی جامع منصوبہ بندی اور ترجیحات کا تعین

اولادیں ماں باپ کا بیش قیمت اثاثہ ہونے کے ساتھ ساتھ الہی آزمائش اور امتحان کا سبب بھی ہیں لہذا بچوں کی بہترین تعلیم ، اچھی تربیت اور صحیح کردار سازی کے لئے ترجیحات کا تعین کرنا اور جامع حکمت عملی اپنانا  والدین کے لئے نہایت ضروری اور لازم امر ہے کیونکہ کوئی کام اور مقصد بغیر منصوبہ بندی انجام دئے اور بغیر ترجیحات کو تعیین کئے ، آسانی سے حاصل نہیں کیا جاسکتا ، کسی بھی مقصد تک پہونچنے کے لئے حکمت عملی اپنانا اور ترجیحات کو متعین کرنا بہت اہمیت کا حامل امر ہے لہذا اس سلسلے سے ضروری معلومات کا حصول اور اس کے مطابق عمل کرنا مقصد تک پہونچنے لے لئے ایک مضبوط قدم اور اس راہ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

منصوبہ بندی انجام دینے اور ترجیحات معین کرنے کی اتنی اہمیت ہے کہ روایات میں بھی اس پر بہت تاکید وارد ہوئی ہے ، امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اپنی آخری وصیت میں ارشاد فرماتے ہیں : میں تمہیں تقوی الہی اختیار کرنے اور اپنے امور میں نظم و ضبط کی وصیت کرتا ہوں۔ (۲) امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : زندگی میں تدبیر اور منصوبہ بندی ، دین ہے (۳) یعنی دین کا جزء ہے۔ اسی طرح آپ ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں : اندازہ گیری اور حساب کتاب یعنی منصوبہ بندی آدھی زندگی ہے (۴) اسی طرح آپ مزید فرماتے ہیں : مومن بہترین معاون و مددگار ، کم خرچ و کم زحمت اور اپنی زندگی کو بہترین تدبیر کے ساتھ چلانے والا ہے۔ (۵)

جاری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات
۱:  شیخ حرعاملی ، تفصیل وسائل الشیعة إلی تحصیل مسائل الشریعة ، ج ۲۱ ، ص ۴۷۶ ،  قَالَ: أَكْرِمُوا أَوْلاَدَكُمْ وَ أَحْسِنُوا آدَابَهُمْ يُغْفَرْ لَكُمْ.
۲:  نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر ۴۷ ، أُوصِیکُمَا وَ جَمِیعَ وَلَدِی وَ أَهْلِی وَ مَنْ بَلَغَهُ کِتَابِی بِتَقْوَى اللَّهِ وَ نَظْمِ‏ أَمْرِکُمْ‏ وَ صَلاَحِ ذَاتِ بَیْنِکُم۔
۳:  شیخ طوسی ، الأمالي ، ج ۱ ، ص ۶۷۰ ، مِنَ الدّینِ التَّدْبیرُ فی المَعِیشَةِ۔
۴: شیخ طوسی ، من لا یحضره الفقیه، ج۴ ص ۴۱۶ ، اَلتَّقْدیرُ نِصْفُ العَیْشِ۔
۵: محمد بن یعقوب کلینی ، الکافی ، ج ۲ ص ۲۴۱ ، الإمامُ الصّادقُ عليه السلام : المؤمنُ حَسَنُ المَعونةِ ، خفيفُ المَؤونةِ، جَيّدُ التّدبيرِ لِمَعيشتِهِ۔۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 1 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 9