نبیوں کی داستان: حضرت ادم علیہ السلام کی نصیحتیں (۲)

Thu, 11/09/2023 - 09:34

گذشتہ سے پیوستہ

جناب ادم علیہ السلام نے فرمایا : تمھارا مقام کیا ہے ؟ تو اس نے اپ کو جواب دیا کہ میری جگہ اور میرا مقام انسانوں کا دماغ اور ان افکار میں ہے ۔

جانب ادم علیہ السلام نے دوسرے سفید رو سے سوال کیا تم کون ہو ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں محبت اور شفقت ہوں ۔ جناب ادم علیہ السلام نے سوال کیا تمھاری جگہ کہاں ہے تو اس نے جواب میں کہا انسانوں کے دل میں ہے ۔

جناب ادم علیہ السلام نے تیسرے سفید رو کو خطاب کرکے کہا تم کون ہو ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں حیا ہوں ۔ جناب ادم علیہ السلام نے دریافت کیا کہ تمھاری جگہ کہاں ہے تو اس نے جواب دیا کہ میں انسانوں کی انکھوں میں رہتی ہوں ۔

جناب ادم علیہ السلام سمجھ گئے عقل کا مرکز اور سنٹر مغز ہے ، محبت اور شفقت کا مرکز دل اور حیا کا مرکز انکھیں ہیں ۔

اور پھر اپ علیہ السلام بائیں سمت متوجہ ہوئے اور سیاہ رو کو خود کو پہچانوانے کا مطالبہ کیا ، ان میں سے ایک کو خطاب کرکے کہا : تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ میں خود خواہی اور تکبر ہوں ۔ جناب ادم علیہ السلام نے سوال کیا تمھاری جگہ کہاں ہے ؟ تو اس نے جواب دیا میری جگہ انسان کے دماغ اور ان کے افکار ہیں ۔

جناب ادم علیہ السلام نے اسے خطاب کرکے کہا کہ کیا وہ عقل کی جگہ نہیں ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ! لیکن جب بھی میں اس جگہ موجود رہوں عقل زائل ہوجاتی ہے ۔

جناب ادم علیہ السلام نے دوسرے سیاہ رو سے سوال کیا تم کون ہو ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں حسد ہوں ، جناب ادم علیہ السلام نے سوال کیا تمھاری جگہ کہاں ہے ؟ تو اس نے کہا کہ میری جگہ انسانوں کے دل میں ہے ، اپ علیہ السلام نے فرمایا کیا وہ محبت و شفقت کا مقام نہیں ہے تو اس نے جواب دیا کہ جس وقت میں وہاں رہوں محبت و شفقت وہاں سے نکل جاتی ہے ، اس وقت وہ دنوں وہاں نہیں ہوتے ۔

جناب ادم علیہ السلام نے تیسرے سیاہ رو سے سوال کیا کہ تم کون ہو ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں طمع و لالچ ہوں ، جناب ادم علیہ السلام نے اس سوال کیا کہ تمھاری جگہ کہاں ہے تو اس نے جواب دیا کہ میری جگہ انکھیں ہیں ، تو جناب ادم علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا وہ جگہ حیا کی نہیں ہے تو اس نے کہا کہ کیوں نہیں ، مگر جب میں وہاں رہو تو حیا نہیں رہتی ۔ (۱)

اس طرح حضرت ادم علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ خود خواہی اور تکبر عقل کے دشمن ، حسد ، محبت اور شفت کے دشمن ، طمع اور لالچ ، حیا کے دشمن ہیں ۔ (۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱: عاملی ، سید محمد ، المواعظ العددیہ ، ص۱۸۹ ۔

۲: اصفهانی ، علی عطائی ، قصص الانبیاء ، ص ۳۷ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
4 + 7 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 12