وہابیت
وہابیت عمل کو ایمان کی ایک شرط سمجھتی ہے، لہذا اگر کوئی شہادتین زبان پر جاری کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، لیکن وہ استغاثے کا بھی قائل ہو تو اسے کافر سمجھا جاتا ہے؛ کیونکہ وہ خدا کے سوا کسی اور سے درخواست کرکے کفر کی وادی میں داخل ہوگیا ہے۔ جبکہ دیوبندی ایسی بات نہیں کہتے ہیں اور عمل کو ایمان کے لیے شرط نہیں سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ اس سلسلے میں شاہ اسماعیل کا نظریہ ظاہر کرتا ہے۔وہابیت عمل کو ایمان کی ایک شرط سمجھتی ہے، لہذا اگر کوئی شہادتین زبان پر جاری کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، لیکن وہ استغاثے کا بھی قائل ہے تو اسے کافر سمجھا جاتا ہے؛ کیونکہ وہ خدا کے سوا کسی اور سے درخواست کرکے وادئ کفر میں داخل ہوگیا ہے۔ جبکہ دیوبندی ایسی بات نہیں کہتے ہیں اور عمل کو ایمان کے لیے شرط نہیں سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ اس سلسلے میں شاہ اسماعیل کا نظریہ ظاہر کرتا ہے۔
وہابی حضرات اپنی باتوں کے دوران صحابہ کا جو احترام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں،در حقیقت ان باتوں کے ذریعہ یہ لوگ سادہ لوح عوام کو فریب دیتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے یہ اپنا اصل عقیدہ بیان کرنے سے ڈر تے ہیں۔
وہابیت و نجدیت کا وائرس چین کے کرونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے مندرجہ ذیل نوشتہ میں چند مماثلتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
وہابیت ایک ایسا لفظ ہے کہ جسے وہابی بزرگوں کے ذریعہ استعمال میں لایا گیا، جیسے عبد العزیز بن باز، نے اس کا استعمال کرتے ہوئے اسے ایک بہترین لقب مانا ہے؛ تاہم، موجودہ دور کے وہابی افراد اپنے لیے اس لٖفظ کے استعمال سے ناخوش نظر آتے ہیں۔
آج دنیا کے سامنے حقائق عیاں ہو گئے اور آج وہابی افکار سے مقابلہ پہلے کی نسبت آسان تر ہو گیا ہے۔ کیونکہ داعش نے ان تمام کے ذریعہ دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ تکفیریت کا نتیجہ کیا ہے!؟۔
آیت اللہ امامی کاشانی نے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی گہری سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے خطے میں داعش کو ایجاد کیا اور جب داعش کے ذریعہ وہ اپنے ناپاک اہداف تک نہیں پہنچ سکا تو اب وہ نئے طریقوں پر غور کررہا ہے۔
خدا جسم و جسمانیت سے پاک و پاکیزہ ہے یہ تو سبھی جانتے ہیں لیکن آئیے وہابیت کے خدا سے ملیئے۔
اسلام سے پہلے جاہلیت کے ایام میں عرب لڑکی کو اپنے لئے بدنامی کا سبب مانتے تھے، لیکن جب اسلام آیا تو اس نے اس نے اس بدعت سیّئہ سے مقابلہ کیا اور خواتین کو عزت کا مقام عطا کیا، لیکن یہ جاہلانہ روایت کچھ عرب ممالک جیسے کہ سعودی عرب میں اسلام کے چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی برقرار ہے، وہ خواتین کو ذلیل کرتے ہوئے ان کے ساتھ جاہل عربوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔
وہابی مفتی اس بہانے سے کہ جشن میلادِرسول اللہ سلف کے زمانے میں انہیں نہیں دکھائی دیتا، اسے بدعت قرار دیتے ہیں ،لیکن جب انکی شاہی ؛ بنام قومی تقریب رقص و سرور اور ہزاروں گناہوں کے ساتھ ہوتی ہے تو اسے شان و شوکت سے مناتے ہیں اور اسے مشروع جانتے ہیں۔
علمائے اسلام نے وہابی آراء کی تردید میں کتب لکھی ہیں اور بعض دیگر نے اصولی طور پر وہابی عقائد کو علمی انداز سے رد کیا ہے جبکہ وہابی سرگرمیاں جاری رہنے کی بنا پر کتب و مقالات آج بھی لکھے جارہے ہیں؛ ان حوالوں سے لکھی جانے والی بعض کتب نمونے کے طور پر متعارف کرائی جاتی ہیں۔