پردہ یہودیوں کی شریعت میں

Tue, 06/14/2022 - 05:41
پردہ

یہودی خواتین میں پردہ کوئی ایسی چیز اور ایشو نہیں ہے جس سے کوئی انکار کرسکتا ہو اور حتی شک و شبہ کا مقام بھی نہیں ہے ، مورخین نے نہ فقط یہودی خواتین میں پردہ رائج ہونے کا تذکرہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں قلم فرسائی کی ہے بلکہ دین یہود میں پردہ کے سلسلہ میں موجود افراط اور تفریط کا بھی تذکرہ کیا ہے ، کتاب " اسلام میں پردہ" کے مصنف اس سلسلے میں لکھتے ہیں کہ : « اگرچہ عرب معاشرہ میں پردہ موجود نہ تھا اور دین مبین اسلام نے پردہ کی بنیاد رکھی مگر عربوں کے سوا دیگر قوموں اور ملتوں میں پردہ شدت کے ساتھ موجود تھا، ایران اور یہودیوں میں نیز وہ قومیں جو فکری لحاظ سے یہودیوں کی اطاعت اور پیروی کیا کرتی تھیں ان کے درمیان اسلام سے بھی کہیں زیادہ شدید اور سخت پردہ موجود تھا حتی بعض قوموں میں عورتوں کے نقاب پہننے یا ان کے منھ چھپانے کی بات نہ تھی بلکہ خود عورتوں کو پوشیدہ رکھنے اور انہیں مخفی رکھنے کی گفتگو تھی ۔ » (۱)

ول ڈیورنٹ کہ جو اپنی تحریر میں اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر قوم میں خواتین کے سلسلے سے موجود میکیپ کے طور طریقے یا ان میں پائی جانے والی برھنگی کو پورے اب و تاب کے ساتھ نقل کرسکیں اور اسے فطری عمل بتائیں مگر اس سلسلہ میں لکھتے ہیں :

« قرون وسطی کے میں یہودی اپنی خواتین کو فاخر اور حسین لباس تو پہناتے تھے مگر انہیں ہرگز اس بات کا موقع نہیں دیتے تھے کہ ننگے سر غیر مردوں کے سامنے جائیں ، اس دور میں بالوں کا نہ چھپانا ایک جرم تھا جو طلاق کا سبب ہوتا تھا نیز اس دوران میں احکام شرعی میں سے ایک حکم یہ تھا کہ یہودی مرد سرکھلی خاتون کے سامنے ھرگز اپنے ہاتھوں کو دعا کے لئے نہ اٹھائے ۔ » (۲)

وہ یہودی خواتین کے صفات اور ان کی خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

« جسمانی لذات اور نفسانی خواہشات کی زندگی متعدد زوجات اور بیویاں ہونے کے ساتھ ساتھ خطاوں سے پاک و صاف تھیں ، ان کی خواتین باکرہ ، پاکدامن ، پردہ دار عورتیں ، فداکار بیویاں اور زیادہ بچے پیدا کرنے والی امین مائیں شمار ہوتی تھیں ، چونکہ بہت جلد ان کے مقاربت کا سلسلہ قائم ہوتا تھا اس لئے معاشرہ گناہوں اور برائیوں سے کوسوں دور تھا ۔ » (۳)

یہودیوں کی مقدس کتاب میں متعدد موارد موجود ہیں جو واضح طور سے یا ضمنی طور سے عورتوں کے پردہ اور حجاب کو مورد تائید و تاکید قرار دیتے ہیں ، بعض متون میں  «چادر» اور «برقع» کا تذکرہ ہے کہ جو اس زمانے میں عورتوں کے پہناوے کی کیفیت کو بیان کرتا ہے کہ ہم اس مقام پر کچھ کا تذکرہ کررہے ہیں :  

نامحرم کے سامنے مکمل پردہ دار رہو

«سِفْر پیدائش» میں یوں ایا ہے کہ « اور رفقہ نے اپنی نگاہیں اٹھائیں اور اسحاق کو دیکھا اور اونٹ سے نیچے اتری ، اس نے غلام سے سوال کیا کہ صحرا میں میرے استقبال کو انے والا مرد کون ہے ؟  تو غلام نے جواب دیا کہ میرے مالک ہے ، تو انہوں نے نقاب سے خود کو ڈھک لیا ۔ » (9)  ایران میں موجود یہودیوں کے دینی رہنما «یوریل ڈیوڈ» کے بقول یہودی شریعت میں پردہ کے حکم کی دلیل یہی فقرہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:
۱: حجاب در اسلام، ابوالقاسم اشتهاردی، ص 50 ۔
۲: تاریخ تمدن، ویل دورانت، ج 12، ص 62 ۔
۳: وہی، ص 63 ۔
۴:  سِفر پیدائش، باب 24، فقره 64 و 65 ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
2 + 4 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 51