گرمی کی چھٹیاں اور میرے فرزندوں کی سرگرمیاں

Thu, 05/09/2024 - 08:51

مئی اور جون کے مہینے گرمیوں کے عروج کے مہینے ہیں ، اسکول میں پڑھنے والے بچوں کے لئے یہ طویل ترین تعطیلات کا زمانہ ہے ، سال بھر تحصیل علم میں مصروفیت اور پھر امتحانات کی محنت و مشقت کے بعد چھٹیاں بظاہر راحت و آرام اور سیر و تفریح کے لئے ایک مناسب موقع ہے جب اپنی تھکن اتار کر نئے سال میں مزید حصول تعلیم کے لئے تیار ہوا جاسکتا ہے ، اس بدلتے موسم میں تبدیلیوں کا اثر انسان کے جسم پر بھی ہوتا ہے اور اس کے ذہن و دماغ پر بھی جسمانی اثرات بہر حال انسانی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں لہٰذا موسم کی تبدیلیوں کا خیال رکھتے ہوئے گرمیوں کے مطابق جسمانی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے ، خاص طور پر چھوٹے بچوں کو دھوپ اور پیاس کی شدت سے بچانا بہت ضروری ہے ، اس سلسلے میں لباس کا انتخاب بھی اہم ہے ، گرمیوں کی ضرورت کے مطابق حتیٰ الامکان ہلکا سوتی لباس جسم کو آرام دینے کے لئے مناسب ہے ، جسمانی ضرورت کے علاوہ اسکول کی تعطیلات کے زمانے میں بچوں کے خالی اوقات میں ان کی دلچسپی اور ضروریات کے مطابق ضروری پروگرام بھی رکھے جائیں خاص طور پر شہر کے جن بچوں کو دوران تعلیم مکتب امامیہ جانے کی فرصت نہیں ملتی یا قرآن مجید اور دینی احکام سیکھنے کے لئے مواقع فراہم نہیں ہوتے۔ ان کے لئے مختلف موضوعات پر دینی تعلیمی کلاسز رکھے جائیں جن میں دلچسپ موضوعات پر ایسے دروس پڑھائے جائیں جن سے بچوں کی قرآنی دینی اور اخلاقی معلومات میں اضافہ ہو ، اس کے لئے مقامی مدرس سے بھی خدمات لئےجاسکتے ہیں لیکن یہ خیال رہے کہ یہ مدرسین سال بھر تک درس و تدریس میں مصروف رہتے ہیں لہٰذا گرمیوں میں الگ سے خدمات ان کےلئے بھی زحمت طلب ہیں ، ان زحمتوں کے بدلے ان کی تشویق اور ان کا تعاون بھی ضروری ہے تا کہ اس زحمت طلب موسم میں ان کی دلگرمی کا بھی سامان فراہم رہے ، اسی طرح ایک دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ جس طرح ہم ماہ مبارک رمضان یا ماہ محرم میں علماو واعظین کو دعوت دیتے ہیں اسی طرح گرمیوں کی تعطیلات میں اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے لئے علمائے کرام کو دعوت دیں اور ان کے لئے ضروری وسائل فراہم کریں ، اس تدبیر سے بچوں کے لئے خالی وقت میں مناسب سرگرمیاں بھی فراہم ہو سکیں گی اور ان کے لئے دینی تعلیم کا انتظام بھی ہو جائے گا جس کے نتیجہ میں ہمارے بچوں کو صحیح وضو، غسل و نماز جیسی بہت سی چیزیں سیکھنے کو ملیں گی اور ہمارے بچے مختصر مدت میں بہت ساری ایسی باتوں سے واقف ہو جائیں گے جو سال بھر ان کے لئے کام آئیں گی ، ان کے علاوہ گرمیوں میں اگر سیر و تفریح کے لئے سفر کی ضرورت پیش آجائے تو ایسے مقامات کا انتخاب کرنا چاہئے جہان دین اور مذہب سے جڑی یادگاریں ہیں جیسے شہید ثالث کا مقبرہ، شہید رابع کا مرقد، امامبارگاہیں وغیرہ تاکہ سیر و تفریح کے ساتھ ساتھ بچے دینی ماحول کی طرف بھی متوجہ رہیں اور آج کی دنیا میں جہاں ہر طرف سے بد اخلاقی اور بد عنوانی کی یلغار ہے اور ہمیں سال بھر تک اسکولوں کی مصروف زندگی میں اپنے بچوں کو صحیح راہ کے انتخاب کی ہدایت دینے کی فرصت نہیں ملتی ، گرمیوں کی چھٹیوں کے اس موقع پر ان کے سال بھر کے شبہات دور کئے جاسکتے ہیں ، اس سلسلہ میں بھی ملک میں فعال مذہبی اداروں سے مدد لی جاسکتی ہے ، ان کے زیر نگرانی منظم پروگراموں کے بہت سے معلومات بہم پہنچا سکتی ہیں۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
8 + 6 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 57