عورتوں کے حقوق قران کریم کی نگاہ میں

Tue, 05/17/2022 - 06:35

دین مبین اسلام سے پہلے عورت کو کمترین حق بھی حاصل نہ تھا، انہیں زندہ دفنا دیا جاتا ، مرد جس قدر بھی چاہتے شادیاں کرتے اور عورتوں کو نفسانی خواہشات کی تسکین کے لئے استعمال کرتے مگر دین اسلام نے عورت کے حق کا احیاء کرتے ہوئے اسے معاشرہ میں مقام و منزلت عطا کی ، عظمت و بلندی دی یہاں تک کہ بعض عورتوں اور خواتین کو بہت سارے مردوں کے مقابل با فضلیت قرار دیتے ہوئے انہیں زنان بہشت میں شامل کیا ، لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ قران کریم ، معصومین علیھم السلام اور اسلام تعلیمات کی نگاہ میں مرد و زن کے حقوق برابر ہیں اور گھر و گھرانہ کو ادارہ کرنے اور کنٹرول کرنے میں میعار تقوائے الھی اور ذاتی صلاحیت ہے ، صنف نہیں یعنی مرد یا عورت یا ہونا نہیں ۔

البتہ اس مقام پر اس بات کی جانب بھی توجہ دلاتے چلیں کہ اگر مرد و عورت یعنی میاں اور بیوی من پسند ، مورد نظر یا خاطر خواہ شادی کے رشتہ اور بندھن میں نہ بندھ سکے ، ازدواجی زندگی سختیوں اور عدم مفاھمت سے روبرو رہی تو ایسے حالات میں اسلام نے طلاق جیسے مکروہ اور غیر پسندیدہ عمل کی پیش کش کی ہے تاکہ دونوں کی زندگی میں چین و سکون کی حکمرانی ہوسکے ۔

قران کریم نے سورہ ال عمران میں خواتین کی عظمت اور مرد و زن کو ایک دوسرے کے برابر بتاتے ہوئے کہا «اَنّی لا اُضیعُ عملَ عاملٍ منکم مِن ذکرٍ او اُنثی بعضُکم من بعض».[۱] میں تم میں سے کسی بھی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت ۔ یا سورہ نساء میں ارشاد فرمایا «و من یَعْمَل مِن الصّالحات مِنْ ذکرٍ او انثی و هو مؤمن فاولئک یدخُلُون الجنّة ولا یظلمون نقیراً».[۲] اور جو بھی نیک کام کرے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ صاحب ایمان بھی ہو- ان سب کوجنّت میں داخل کیا جائے گا اور ان پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ یا سورہ نحل میں ارشاد فرمایا «من عَمِلَ صالحاً من ذکرٍ اَوْانثی وَ هو مؤِمنُ فَلَنُحْیِیَنَّه حیاةً طیبةً و لَنَجْزِیَنَّهُم اَجرهُم بِاَحسنِ ما کانوا یعمَلون».[۳] وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انہیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے ۔ نیز سورہ اسراء میں بیان کیا کہ « مَن اراد الاخرة سَعیٰ لها سَعْیَها وهو مؤمنُ فاولئک کان سعیهم مشکوراً».[۴] جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور اس کے لئے ویسی ہی سعی بھی کرتا ہے اور صاحب ایمان بھی ہے تو اس کی سعی یقینا مقبول قرار دی جائے گی ۔ سورہ فصلت میں مرد و زن میں سے ہر ایک کو اپنے عمل کی بہ نسبت ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ « مَن عملَ صالحاً فلنفسه ومن اَساءَ فعلیها وما ربُّکَ بظلاّمٍ للعبید».[۵] جو بھی نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا اور جو اِرا کرے گا اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہوگا اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے ۔ یا سورہ نساء کی ایک دوسری ایت کریمہ میں فرمایا «للرّجال نصیبٌ مما اکتسبوا وللنّساء نصیبٌ مما اکتسبن».[۶] مردوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انہوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انہوں نے حاصل کیا ہے- اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو کہ وہ بیشک ہر شے کا جاننے والا ہے ، اور سورہ بقرہ میں فرمایا «هُنّ لباسٌ لکم وانتم لباسٌ لهنَّ».[۷] وہ تمھارا لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہیں ۔

امام خمینی (رہ) خواتین کی عظمت اور انہیں مردوں کے برابر ہونے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ « اسلام نے تمام مسائل و جوانب میں عورت کو مرد کی طرح رکھا ہے ، دین اسلام نے جس طرح مرد کو تمام مسائل میں شامل رکھا ہے اسی طرح عورت کو بھی تمام مسائل میں شامل رکھا ہے ، جس طرح مردوں کو با اختیار بنایا اسی طرح عورتوں کو اختیار دیا ہے ، خداوند متعال نے اپ خواتین کو محترم ، با عظمت اور ازاد پیدا کیا ہے » ۔ [۸]

امام خمینی (رہ) ایک دوسرے مقام پر یوں فرماتے ہیں کہ « دین اسلام نے جس طرح مردوں کو حقوق دیئے ہیں اسی طرح عورتوں کو بھی حقوق دیئے ہیں » [۹] حقوق کے لحاظ سے مرد و زن کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے کیوں کہ دونوں ہی انسان ہیں ۔ » [۱۰] یہ بہت ہی خوشی کا مقام ہے کہ اج اسلامی جمھوریہ ایران میں ایک مسلمان عورت ، مسلمان مرد کے مانند اپنے انتخاب میں ازاد ہے اور اپنی کرامت ، شرافت، عفت و شائستگی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی معلومات و توانائی کے بقدر حکومت اور سماجی مراکز میں برسر روزگار ہے اور مختلف قسم کی فعالیتیں انجام دے رہی ہے ، جیسے محکمہ تعلیم ، محکمہ ہائر ایجوکیشن ، میڈیکل، کھیل، آرٹ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن، حکومتی عہدے، عدلیہ ، قومی سطح پر قانون سازی اور فیصلہ سازی کے مراکز، سیاسی امور اور اقتصادیات میں سرگرم عمل ہے اور امید ہے کہ ہمارے معاشرے کی خواتین قابلیت و شائستگی کے مطابق جو منصب اور عہدہ ان کی شخصیت کے مناسب ہے ، تک پہچنیں اور معاشرے کی ترقی میں زیادہ سے زیادہ کارگر و موثر ثابت ہوں گی۔ [۱۱]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:
۱: قران کریم ، سورہ آل عمران ، ایت ۱۹۵ ۔
۲: قران کریم ، سورہ نساء ، ایت  ۱۲۴ ۔
۳: قران کریم ، سورہ نحل ، ایت ۹۷ ۔
۴: قران کریم ، سورہ اسراء ، ایت ۱۹ ۔  
۵: قران کریم ، سورہ فصلت ، ایت ۴۱ ۔
۶: قران کریم ، سورہ نسا ء ، ایت ۳۲ ۔
۷: قران کریم ، سورہ بقره ، ایت ۱۸۷ ۔
۸: موسوی خمینی، روح اللہ ، صحیفہ امام، ج ۶، ص ۳۰۰ تا ۳۰۲ ۔
۹: موسوی خمینی، روح اللہ ، صحیفہ امام، ج ۶، ص ۴۳۶ تا ۴۳۷ ۔
۱۰: موسوی خمینی، روح اللہ ، صحیفہ امام، ج ۴، ص ۳۶۴ تا ۳۶۵ ۔
۱۱: موسوی خمینی، روح اللہ ، صحیفہ امام، ج ۴، ص ۳۶۴ تا ۳۶۵ ۔
 

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
4 + 2 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 53