قربانی، حضرت ابراہیم کی عظیم یادگار (۲)

Sun, 06/16/2024 - 16:09

امیرالمومنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ قربانی میں کتنے فوائد ہیں تو وہ قرض لے کر قربانی کرتے کیونکہ قربانی کا جو پہلا قطرہ زمین پر گرتا ہے اس پہلے قطرہ کی وجہ سے انسان کو بخش دیا جاتا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہوتا ہے کہ ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم اسی طرح حسن عمل والوں کو جزا دیتے ہیں  بے شک یہ بڑا کھلا ہوا امتحان ہے اور ہم نے اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دے دیا ہے “ ۔  اگر چہ حضرت ابراہیم نے کامل طور سے اس عمل کو تبدیل کرنے کے لئے پہلے خداوند عالم سے حکم حاصل کیا تاکہ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کریں  اور حضرت اسماعیل بھی قربانی کے حکم میں تسلیم ہوگئے اور اپنی رضایت کا اعلان کیا یہاں تک کہ حضرت اسماعیل نے قربان ہونے کے لئے اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ دیا لہذا حضرت ابراہیم اور اسماعیل کے ایمان و خلوص کے درجات کے آشکار ہونے کے بعد خداوند عالم نے حضرت اسماعیل کی جگہ دنبہ بھیج دیا ۔

قرآن کریم میں ہے  کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جاہلیت کے زمانے میں بھی قربانی رائج تھی اور یہ لوگ اپنی قربانیوں کو بتوں کے سامنے پیش کیا کرتے تھے ۔ جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حج کے اعمال میں جو قربانی قائم کی تھی وہ خداوند عالم کے لئے تھی قرآن کریم آواز دے رہا ہے " اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کے لئے بیت اللہ کی جگہ مہیا کی کہ خبردار ہمارے بارے میں کسی طرح کا شرک نہ ہونے پائے اور تم ہمارے گھر کو طواف کرنے والے ,قیام کرنے والے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک و پاکیزہ بنادو ،اور لوگوں کے درمیان حج کا اعلان کردو کہ لوگ تمہاری طرف پیدل اور لاغر سواریوں پر دور دراز علاقوں سے سوار ہوکر آئیں گے ، تاکہ اپنے منافع کا مشاہدہ کریں اور چند معین شدہ ایام میں ان چوپایوں پر جو خدا نے بطور رزق عطا کئے ہیں خدا کا نام لیں اور پھر تم اس میں سے کھاؤ اور بھوکے محتاج افراد کو کھلاؤ “ ۔

قرآن کریم کی نظر میں صرف وہ قربانی قابل قبول ہے جو فقط خداوند عالم کے لئے کی گئی ہو اور اس شخص نے صرف خداوند عالم سے تقرب حاصل کرنے کے لئے قربانی کی ہو ۔ائمہ معصومین علیہم السلام کے کلام میں ملتا ہے کہ اگر کسی کے پاس قربانی کرنے کے لئے پیسہ نہ ہو تو وہ قرض لے کر قربانی کرے اوراس سنت کو انجام دے۔ کتاب المراقبات میں عید قربان کے روز قربانی کی فضیلت کے بارے میں ذکر ہوا ہے : کہ اس دن کے بہترین اعمال میں سے ایک قربانی ہے جس کو انجام دینے میں بندگی کے قوانین اور ادب کی رعایت کرنا چاہئے یاد رہے کہ اس دن قربانی نہ کرنا اورخدا کی راہ میں تھوڑا سا مال  بھی ایثار نہ کرنا خسارے اور نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔

خداوند عالم نے قربانی کو معاشرہ کے اتحاد و اتفاق کے عنوان سے پیش کیا ہے تاکہ امتوں اور قوموں کے درمیان اتحاد و انسجام قائم ہوجائے اور معاشرہ کے افراد مختلف شکلوں میں ایک دوسرے سے متصل ہوجائیں ۔ خصوصا تمام افراد اس قربانی سے استفادہ کریں اور اس کا گوشت تناول فرمائیں اور اس کے ذریعے امتوں اور قوموں میں مہر و محبت زیادہ ہوجائے ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
2 + 6 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 83