ماں باپ سے نیکی کا فائدہ

Mon, 05/13/2024 - 08:05

عمار بن حيان کہتے ہیں کہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ میرا بیٹا اسماعیل میرے ساتھ نیکی کرتا ہے تو حضرت علیہ السلام نے فرمایا : میں اسماعیل سے محبت کرتا تھا اور تمھاری اس خبر کے بعد ان سے میری محبت میں اضافہ ہوگیا ہے پھر حضرت علیہ السلام نے فرمایا : جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی رضاعی بہن (دودھ پلائی بہن) حضرت کی خدمت میں پہونچی اور حضرت کی ان پر نگاہ پڑی تو حضرت انہیں دیکھکر بہت خوش ہوئے ، اپنا بستر ان کے لئے بچھایا اور انہیں اس پر بٹھایا اور ان سے باتیں کرنے میں مصروف ہوگئے ، باتیں کرتے تھے اور ہنستے تھے ، پھر وہ حضرت سے خدا حافظی کرکے چلی گئیں ۔

کچھ دنوں بعد حضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے رضاعی بھائی (دودھ پلائے بھائی) ائے کہ جو ان کی رضاعی بہن کے بھائی تھے حضرت کی خدمت میں پہنچے تو حضرت ان سے اس طرح پیش نہیں ائے جس طرح رضاعی بہن کے ساتھ پیش ائے تھے ، حضرت سے سوال کرنے والوں نے سوال

کیا اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ اپ ویسے پیش نہیں ائے جس طرح رضاعی بہن کے ساتھ پیش ائے تھے ، حضرت (ص) نے ان کے جواب میں فرمایا : چونکہ میری رضاعی بہن کا رضاعی بھائی کی بہ نسبت ماں باپ کے ساتھ برتاو اچھا تھا ۔ (۱)

ایک دوسری روایت میں ابراهيم بن شعيب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت (ع) سے عرض کیا میرے باپ بوڑھے اور ضیعف ہوگئے ہیں ، میں انہیں قضائے حاجت کے لئے بیت الخلاء تک لے جاتا ہوں ، حضرت (ع) نے فرمایا : اگر اس زحمت کو بھی ان کے دوش سے اٹھا سکتے ہو تو ایسا کرو ، ان کی دہن میں لقمہ رکھو کہ تمھارا یہ عمل کل قیامت کے دن تمھارے لئے جہنم کی اگ کے مقابل سپر بنے گا ۔  (۲)

ایک مرد رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی خدمت میں ایا اور عرض کیا: « إِنِّی رَاغِبٌ فِی الْجِهَادِ نَشِیطٌ قَالَ فَقَالَ لَهُ النَّبِی ص فَجَاهِدْ فِی سَبِیلِ اللَّهِ فَإِنَّک إِنْ تُقْتَلْ تَکنْ حَیاً عِنْدَ اللَّهِ تُرْزَقْ وَ إِنْ تَمُتْ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُک عَلَی اللَّهِ وَ إِنْ رَجَعْتَ رَجَعْتَ مِنَ الذُّنُوبِ کمَا وُلِدْتَ قَالَ یا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِی وَالِدَینِ کبِیرَینِ یزْعُمَانِ أَنَّهُمَا یأْنَسَانِ بِی وَ یکرَهَانِ خُرُوجِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص فَقِرَّ مَعَ وَالِدَیک فَوَ الَّذِی نَفْسِی بِیدِهِ لَأُنْسُهُمَا بِک یوْماً وَ لَیلَةً خَیرٌ مِنْ جِهَادِ سَنَةٍ» ۔ (۳)

میرے ماں باپ بوڑھے ہیں اور مجھ سے بیحد محبت کی وجہ سے انہیں یہ پسند نہیں کہ میں جہاد کرنے جاؤں ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اپنے ماں باپ کے پاس رہو ، قسم اس خدا کی جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے ، ان سے ایک دن کی تمھاری محبت ایک سال جہاد سے بہتر و برتر ہے ، (البتہ اگر جہاد واجب عینی نہ ہو یعنی اسلام کو ہمارے جہاد نہ کرنے سے خطرہ لاحق نہ ہو)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ :

۱: فیض کاشانی ، ملا محسن ، محجة البيضاء، ج ۳، ص ۴۳۹۔

۲: فیض کاشانی ، ملا محسن ، محجة البيضاء، ج ۳، ص۴۴۱۔

۳: مجلسی ، محمد باقر، بحارالانوار، ج ۷۴، ص ۵۲ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
5 + 3 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 58