احساس غرور

Wed, 03/20/2024 - 22:30

قران کریم اور روایتوں میں تکبر کو بدترین اخلاقی صفت میں شمار کیا گیا ہے اور علمائے علم اخلاق نے اس سلسلہ میں بہت ہی مفصل گفتگو فرمائی ہے ، خود کو دوسروں سے بہتر اور ان سے بالاتر جاننا تکبر کی بنیاد ہے ، متکبر کے ذھن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ گویا وہ دوسروں سے بہتر اور برتر ہے لہذا دوسرے اس کا احترام کریں ، اس کی تعظیم کریں اور اسے شمار کریں ۔

کسی بھی انسان میں اس صفت کا وجود اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ دوسروں سے الگ تھلگ ہوجائے اور بہت سارے مقامات پر تکبر انسان کی گناہ اور اس کے سرکش ہونے کا سبب بنتا ہے ۔

اس سلسلہ میں کافی تعداد میں روایتں موجود ہیں جن میں بعض کا ہم اس مقام پر تذکرہ کر رہے ہیں :

چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام تکبر کے سلسلہ میں فرماتے ہیں : مَن ذَهَبَ یَرى أَنَّ لَهُ عَلَى الآخَرِ فَضلاً فَهُوَ مِنَ المُستَکبِرینَ، (قالَ حَفصُ بنُ غیاثٍ): فَقُلتُ لَهُ إِنَّما یَرى أَنَّ لَهُ عَلَیهِ فَضلاً بِالعافیَهِ إذا رَآهُ مُرتَکِبا لِلمَعاصى، فَقالَ: هَیهاتَ هَیهاتَ! فَلَعَلَّهُ أَن یَکونَ قَد غُفِرَ لَهُ ما أتى وَ أَنتَ مَوقوفٌ مُحاسَبٌ أَما تَلَوتَ قِصَّهَ سَحَرَه موسى (علیه‌ السلام) ۔ (۱)

جو بھی خود کو دوسروں سے بہتر جانے وہ متکبرین میں سے ہے ، حفص ابن غیاث کہتے ہیں کہ میں حضرت (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر کسی گناہگار کو دیکھا اور اس کی گناہوں اور اپنے تقوائے اور طھارت کے سبب خود کو گناہگار سے بہتر جانا تو ؟ حضرت نے فرمایا ہرگز ہرگز ! کیوں کہ ممکن ہے وہ معاف کردیا جائے مگر تمہیں حساب و کتاب کے لئے پل صراط پر روک لیا جائے ، کیا تم نے حضرت موسی علیہ السلام کے جادوگروں کی داستان نہیں پڑھا ؟ !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱: کلینی ، کافى (ط - الاسلامیه) ، ج ۸ ، ص ۱۲۸ ۔  

 

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 17 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 26