امام محمد باقر(ع) کی راہب سے گفتگو

Thu, 03/21/2024 - 22:27

امام جعفر صادق علیہ السلام اپنی خردسالی کے واقعات میں نقل فرماتے ہیں کہ ایک دن اپنے والد محترم [حضرت امام محمد باقر علیہ السلام] کے ساتھ گھر سے باہر نکلا اور جب شھر کے اسکوائر پر پہنچا تو دیکھا کہ کافی لوگ اکٹھا ہیں ، میں نے والد سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ اپ نے فرمایا : یہ عیسائی مذھب کے دینی رہنما یعنی پادری ہیں جو ہر سال اس دن اس مقام پر اکٹھا ہوتے ہیں اور ملکر اپنے بزرگ دینی رہنما کی ملاقات کو جس کا چرچ اس پہاڑ کے اوپر ہے جاتے ہیں اور اس سے سوالات کرتے ہیں ، میرے والد [ع] نے بھی اپنے سر پر ایک کپڑا ڈال کر چہرہ چھپا لیا تاکہ کوئی اسے نہ پہچان سکے اور اس کے پاس گئے ، پادری اس قدر بوڑھا تھا کہ اس کی سفید پلکیں اس انکھوں پر گری ہوئی تھیں اور اس نے انہیں زرد ریشم کے کپڑے سے اپنی پیشانی پر باندہ رکھا تھا اور اس کی انکھیں ناگ کی طرح ناچ رہی تھیں ، پھر ناگہاں پادری نے اپ [ع] سے سوال کیا ۔

پادری: تم ہم سے ہو یا امت مرحومہ (رحمت شدہ امت یعنی اسلام)

امام باقر(ع): امت مرحومہ میں سے ہوں (رحمت شدہ امت یعنی اسلام) ۔

پادری: علمائے اسلام میں سے ہو یا جاہلوں میں سے ؟

امام محمد باقر(ع) : جاہلوں میں سے نہیں ہوں ۔

پادری : میں سوال کروں یا تم سوال کرو گے ؟

امام محمد باقر علیہ السلام : تم سوال کرو !

پادری نے عیسائیوں کی طرف رخ کیا اور کہا: تعجب خیر ہے کہ امت محمد (ص) کی اس فرد میں اتنی ہمت ہے کہ وہ مجھ سے تم سوال کرو ! پھر راہب نے امام محمد باقر علیہ السلام نے پانچ سوال پوچھے ۔

پہلا سوال: مجھے بتاو کہ وہ گھڑی جو نہ رات ہے اور نہ دن کونسی گھڑی ہے ؟

دوسرا سوال: اگر نہ دن ہے اور نہ رات تو پھر کیا چیز ہے ؟

جواب: امام علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ گھڑی طلوع فجر اور طلوع افتاب کے درمیان کی گھڑی ہے ، اور وہ گھڑی بہشت کی گڑیوں میں سے ہے جس میں بیماروں کو شفا ملتی اور تکلیفوں کو سکون ملتا ہے ۔

تیسرا سوال : یہ جو کہتے ہیں کہ اہل بہشت کھاتے اور پیتے ہیں مگر انہیں قضائے حاجت کا احساس نہیں ہوتا کیا دنیا میں بھی اس کی مثال موجود ہے ؟

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا : وہ بچہ جو رحم مادر میں ہے ۔

چوتھا سوال: کہتے ہیں جنت میں پھل اور کھانے کھائیں گے مگر کچھ بھی کم نہ ہوگا تو کیا دنیا میں اس مثال موجود ہے ؟

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: چراغ مانند ہے کہ اگر کسی چراغ سے ہزاروں چراغ جلا دیئے جائیں تو بھی اس کی روشنی اور اس کے نور میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی ۔ (۱)

جاری ہے ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱: کلینی ، اصول کافی، ج ۱، ص ۴۷۱ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
4 + 16 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 38