مناجات شعبانیہ کی شرح؛ پانچویں قسط

Sun, 02/25/2024 - 19:08

گذشتہ سے پیوستہ

خداوند متعال کی جانب قدم بڑھانے والا بندہ ، سیر و سلوک کرنے والا انسان اس نتیجہ پر پہونچ جاتا ہے ، یقین کرلیتا ہے کہ جب تک مسَبِؔب یعنی خداوند متعال کی ذات نہ چاہے اسباب و وسائل کچھ بھی نہیں کرسکتے ، ان کے بس میں کچھ بھی نہیں ہے ، جب تک اس کی ذات لایزال نہ چاہے کسی بھی تیغ میں کاٹنے کی طاقت و توانائی موجود نہیں ، فارسی شاعرنے کیا خوب کہا:

 

اگر تیغِ عالَم بجنبد ز جای

نبرّد رگی تا نخواهد خدای

                        نظامی

جب تک وہ ارادہ نہ کرے اگ کا دریا بھی اس کے «خلیل» کو نہیں جلا سکتا ، جیسا کہ سعدی کہتے ہیں :

 

گلستان کند آتشی بر خلیل     

گروهی بر آتش بَرَد ز آب نیل

                              سعدی

لہذا خداوند متعال کی جانب فرار اور دوڑ «اسباب» سے فرار اور «مُسبِّبُ الاسباب» کی جانب خاص توجہ ہے کہ جو اپنے اپ میں قابل قبول ہے ، ( اگر چہ خداوند متعال نے فطری امور میں اسباب و وسائل پر توجہ کی سفارش کی ہے ) مگر اس سفارش کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ نتیجہ کے سلسلہ میں بھی ان پر بھروسہ کیا جائے بلکہ قدم اٹھانا انسان کا کام ہے اور نتیجہ دینا اس خدائے وحدہ لاشریک  کا ۔

پارسی دیار کے شیخ المشایخِ شیخ ابو عبداللّه بن خفیف اپنے حج کے یادگار لمحوں کو بیان کرتے ہوئے ہوں تحریر کرتے ہیں : میں حج کے قصد سے نکلا اور جب بغداد پہنچا تو بزرگان میں سے ایک صاحب کا دیدار کرنے کا ارادہ کیا ، سحرا میں داخل ہوا اور ہمارے ساتھ ڈول و رسی بھی تھی ، پیاس لگی ، کنواں دیکھا جس سے ہرن پانی پی رہا تھا ، میں جب کنویں کے منھ پر پہنچا تو پانی نیچے چلا گیا ، فریاد کی : خداوندا ! کیا میری حیثت اس ہرن سے بھی کم ہے ؟ جیسے ہی یہ کہا اواز ائی جسے میرے کانوں نے سنا ، اے مرد! اس ہرن کے پاس ڈول اور ڈور نہیں ہے ؟ اس نے میرے اوپر اعتماد و بھروسہ کیا تھا اپنی ڈول اور ڈور پر نہیں ، میں نے ڈول اور ڈور لٹکائی اور اسی کے سہارے نیچے اترنا شروع کیا تو دوبارہ اواز ائی ، ابن خفیف ! واپس لوٹ جاو اور پانی پی لو ! واپس لوٹا تو پانی کنویں کے اوپر تھا ، وضو کیا ، پانی پیا اور اپنے سفر کو نکل پڑا ، اس مقام پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

 

انبیا در قطعِ اسباب آمدند        

معجزاتِ خویش بر کیوان زدند

 

جمله قرآن هست در قطع سبب          

عِزِّ درویش و هلاک بُولهب

 

همچنین ز آغاز قرآن تا تمام     

رَفض اسبابست و علّت و السّلام  

                                مولانا ۔ (۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱:  https://hawzah.net/fa/Magazine/View/5764/6748/80595/

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 14 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 89