بنی امیہ کی سیاست

Thu, 02/15/2024 - 10:13

 تشدد اور سخت برتاو کی سیاست

یہ طریقہ بنی امیہ اور مروانیوں کے تمام دورۂ حکومت میں رائج تھا ، نمونہ کے طور پر تاریخ میں موجود ہے کہ «حجاج» نے اس سیاست اور طریقہ حکومت کو جامہ عمل پہناتے ہوئے ایک لاکھ ۳۳ ھزار شیعوں کو تہ تیغ کردیا ، ۸۰ ھزار شیعوں کو جیل میں ڈال دیا ، ان جنایتوں کے لئے شیعہ ہونا ضروری نہیں تھا بلکہ شیعہ ہونے کا گمان ہی کافی تھا ۔

واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی شھادت کے بعد بنی امیہ اس گمان میں تھے کہ کربلا کی جنگ میں ان کی ظاھری پیروزی سے انہیں اہم مقاصد میں کامیابی مل گئی ہے اسی بنیاد پر یزید نے دربار شام میں اہل حرم کے سامنے امام حسین علیہ السلام کے سرکو دیکھنے کے بعد کہا: «لیت أشیاخی ببدرٍ شهدوا» اے کاش بدر میں مارے جانے والے ہمارے بزرگان ہوتے ۔

یزید کے بعد جب یزید کا بیٹا معاویہ ابن یزید تخت حکومت پر بیٹھا تو امام سجاد علیہ السلام کی سیاست اور اپ کے برتاؤ نے اسے مجبور کردیا کہ وہ منبر پر جاکر یہ کہے کہ میرے باپ دادا غاصب تھے اور میں ان کی غاصبانہ سیاست کو نہیں اپنانا چاہتا ہوں ، اے لوگو! اج کے بعد میں خلیفہ نہیں ہوں ، نتیجتا ہم نے دیکھا کہ اس کی خلافت ۴۰ دن سے زیادہ نہ چل سکی ، مروانیوں نے یہ دیکھا کہ اگر انہوں نے حکومت کی باگ ڈور نہ سنبھالی تو حکومت ہاتھ سے نکل جائے گی ، اس طرح «مروان بن حکم» کو وقت کا حاکم بنادیا ، جبکہ مروان وہ انسان ہے جسے رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شھر بدر کردیا تھا اور خلیفہ اول اور دوم نے بھی اس واپس بلانے سے انکار کردیا تھا ، جس وقت «مروان بن حکم» تخت حکومت پر بیٹھا تو اس نے آئین نامہ بناکر تمام شھروں کو بھیج دیا کہ شیعوں کو جس جگہ بھی دیکھو گرفتار کرلو اور ان کے سرمایہ کو نابود کردو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

https://www.balagh.ir/content/807

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
9 + 9 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 45