غدیر، بزرگان اہلسنت کی نگاہ میں

Sat, 07/16/2022 - 06:08

ابن تيميه حرانی متوفی 728 ھ ق کہ جو فضائل اهل بيت اطھار عليهم السلام کا انکار کرنے میں زباں زد خاص و عام ہیں، لکھتے ہیں :  

وأما قوله من كنت مولاه فعلي مولاه فليس هو في الصحاح لكن هو مما رواه العلماء وتنازع الناس في صحته فنقل عن البخاري وإبراهيم الحربي وطائفة من أهل العلم بالحديث انهم طعنوا فيه وضعفوه  ....

حديث "من كنت مولاه فعلي مولاه" صحاح ستہ میں موجود نہیں ہے ، بعض مفکرین نے اگر چہ اسے نقل کیا ہے مگر اس روایت کی صحت میں اختلاف کا شکار ہیں ، بخاری ، ابراھیم حربی اور دیگر مفکرین نے اس حدیث "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" کو ضعیف جانا ہے ۔ (۱)

و سعد الدين تفتازانی متوفی 791 ھ ق نے حدیث غدیر کے جواب میں تحریر کیا: والجواب منع تواتر الخبر فإن ذلك من مكابرات الشيعة كيف وقد قدح في صحته كثير من أهل الحديث ولم ينقله المحققون منهم كالبخاري ومسلم والواقدي ۔

میرا جواب یہ ہے کہ حدیث غدیر متواتر نہیں ہے اور یہ فقط شیعوں کی اکڑ اور ان کا ضدی پن ہے کیوں کہ بہت سارے [سنی] علماء از جملہ بخاری، مسلم اور واقدی نے اس کی صحت پر اعتراض کیا ہے اور اس نقل نہیں کیا ہے ۔ (۲)

جواب :

نہ فقط یہ کہ حدیث غدیر کی اسناد معتبر اور صحیح ہیں بلکہ بزرگان اھل سنت نے اس کے متواتر ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے اور اس سلسلہ میں مستقل کتابیں تحریر کی ہیں ، البتہ ان اعترافات کو قبول کرنے کے لئے ایک صحیح و سالم ، با تقوا اور منصف دل اور مزاج کی ضرورت ہے کہ افسوس بعض دشمنان اھل بیت علیھم السلام از جملہ ابن تيميه حرانی اور ابن حزم اندلسی اس سے محروم ہیں ۔

ابن حجر استقلانی لسان الميزان میں ابن تيميہ کے سلسلہ میں تحریر کرتے ہیں کہ : لكن وجدته كثير التحامل إلى الغاية في رد الأحاديث التي يوردها بن المطهر وان كان معظم ذلك من الموضوعات والواهيات لكنه رد في رده كثيرا من الأحاديث الجياد التي لم يستحضر حالة التصنيف مظانها ۔ (۳)

علامہ حلی نے [غدیر کے سلسلہ میں] جس حدیث سے استلال کیا ہے ابن تیمیہ نے اسے رد کرنے اور اسے تنقید کا نشانہ بنانے میں زیادتی سے کام لیا ہے یہاں تک انہوں نے بہت ساری معقول اور معتبر احادیث کو بھی رد کردیا ہے ۔

ابن حجر استقلانی اپنی دوسری کتاب فتح الباری میں تحریر کرتے ہیں کہ : وأنكر بن تيمية في كتاب الرد على بن المطهر الرافضي المؤاخاة بين المهاجرين وخصوصا مؤاخاة النبي صلى الله عليه وسلم لعلي قال لأن المؤاخاة شرعت لإرفاق بعضهم بعضا ولتأليف قلوب بعضهم على بعض فلا معنى لمؤاخاة النبي لأحد منهم ولا لمؤاخاة مهاجري لمهاجري وهذا رد للنص بالقياس وإغفال عن حكمة المؤاخاة ۔ (۳)

ابن تيميہ نے علامہ حلی کے جواب میں تحریر کردہ اپنی كتاب میں مہاجرین و انصار خصوصا رسول اسلام اور امیرالمومنین علی ابن طالب علیہ السلام کے درمیان انجام پانے والے عقد اخوت کا انکار کرتے ہوئے لکھا: عقد اخوت کا فلسفہ ایک دوسرے کے دلوں کو جوڑنا ، ایک دوسرے سے قریب کرنا ہے ، ایک دوسرے کے درمیان محبت و الفت و دوستی قائم کرنا ہے مگر دومہاجر اور خود رسول خدا کے درمیان اس رشتہ اور ناطہ کا قیام بے معنی ہے ۔ این باتوں کو وہ کہہ سکتا ہے جو اس حکم کی حکمت سے بے خبر ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ :

۱: إبن تيمية الحرانی ، أبو العباس أحمد بن عبد الحليم ،  منهاج السنة النبوية ، ج 7 ، ص 319 ، تحقيق : د. محمد رشاد سالم ، ناشر : مؤسسة قرطبة ، الطبعة الأولى ، 1406 .

۲: التفتازاني ، سعد الدين مسعود بن عمر بن عبد الله ، شرح المقاصد فی علم الكلام ، ج 2 ، ص 290 ، ناشر : دار المعارف النعمانية - باكستان ، الطبعة : الأولى ، 1401هـ - 1981م .

۳: لسان الميزان ، ج 6 ، ص 319 ، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي الوفاة: 852 ، ناشر : مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت - 1406 - 1986 ، الطبعة : الثالثة ، تحقيق : دائرة المعرف النظامية – الهند ۔

۴: فتح الباري شرح صحيح البخاري ، ج 7 ، ص 271 ، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي الوفاة: 852 ، ناشر : دار المعرفة - بيروت ، تحقيق : محب الدين الخطيب .

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
6 + 5 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 46