شادی کیلئے لڑکے اور لڑکی کے انتخاب کا معیار (۳)

Mon, 06/20/2022 - 07:34
شادی

چار: حسب و نسب

شادی کے لئے لڑکے اور لڑکی کے انتخاب کا ایک اور معیار ، حسب و نسب ہے کہ جس پر گھرانوں کی توجہ لازمی اور ضروری ہے کیوں کہ اگر لڑکے اور لڑکی کا حسب و نسب صحیح نہ ہو یا  تقوائے الھی کی بنیادوں پر ان کی تربیت نہ ہوئی ہو تو یقینا گھرانے کی بنیادیں سست اور کمزور ہوں گی ، رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سلسلہ میں فرمایا : « اے لوگو ! کوڑے خانہ پر رشد پانے والی ہری بھری گھاسوں سے پرھیز کرو ! حضرت (ص) سے سوال کیا گیا کہ اے رسول خدا [ص] اس جملہ سے اپ کی مراد کیا ہے ؟ تو حضرت [ص] نے جواب میں فرمایا : ایسی لڑکی جو غلط گھرانے میں رشد پائی ہو اور پلی بڑھی ہو۔ » (۱)

پیغمر اسلام (ص) نے ایک دوسری روایت میں فرمایا کہ : « اُنْظُرْ فى أىِّ شىْءٍ تَضَع ولدک فإنَّ العرق دَسّاس ؛ دیکھو کہ تم نے اپنی اولاد کو کس جگہ رکھا ہے کیوں کہ نطفہ خواہ نخواہ منتقل ہوگا اور تاثیر دیکھائے گا ۔ » (۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے بھی اس سلسلہ میں فرمایا کہ : « تَزَوَّجوا فِی الحِجر الصالِح، فَإنَّ العِرق دَسّاس ؛ اچھی نسل اور حسب و نسب والے گھرانے کے ساتھ رشتہ کرو کہ نطفہ اثر انداز ہے ۔ » (۳)

اولیائے الھی اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی نگاہ میں حسب و نسب کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ گھرانہ کی خصوصیات جنیٹیک کے راستے نسل اور بچوں میں منتقل ہوجاتی ہیں لہذا اچھا اخلاق اچھے گھرانے اور اچھی نسل کی نشانی ہے ، اچھے گھرانے میں تربیت پانے والی لڑکیاں اپنے بچوں کی بھی اچھی تربیت کریں گی اور برے ماحول میں پلنے والی لڑکیاں اسی کلچر کو اپنے بچے میں منتقل کردیں گے ۔  

دوسری جانب شادی فقط دو انسانوں کے درمیان رشتہ و ناطہ نہیں ہے بلکہ دو گھرانے کے درمیان رشتہ و ناطے کا قیام ہے لہذا منحرف اور ناصالح گھرانے میں رشتہ ، گھرانوں کے ٹکراو کا سبب بن سکتا ہے یہی وہ وجہ جس کی بنیادوں پر دین اسلام اور معصوم رھبروں نے حسن و جمال کے باوجود ایسی لڑکی سے شادی کرنے سے منع کیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱: کلینی، اصول کافی ، ج 5 ، ص 332 ۔

۲: نجفی ، محمد حسن ، جواهر الکلام، ج 29، ص 37 ۔

۳: فیض کاشانی ، الوافي ،  ج 3 ، ص 706  ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
15 + 4 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 43