امام رضا مشھد کا نگینہ  

Sat, 06/11/2022 - 06:23
حرم امام رضا علیہ السلام

کنز عالمی فلم فیسٹیویل کا دعوا اور ان کی کارکردگی عالمی افکار اور سرگرمیوں سے بہت مختلف اور الگ ہے کیوں کہ دنیا کی عوام حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کو ایک مہربان اور شفیق امام جانتی اور سمجھتی ہے ۔

امام رضا علیہ السلام کی زیارت کا ثواب کسی پر پوشیدہ نہیں ہے ، اسلامی روایتوں اور کتابوں میں آنحضرت کی زیارت کے لا تعداد اور کثیر ثواب کا تذکرہ ملتا ہے ، لوگوں نے بھی انہیں روایتوں پر عمل کرتے ہوئے خود کو اس حرم مقدس اور مطھر کی جالی تک پہونچایا اور اپنا نام زائروں کی فہرست میں مرقوم کیا، مقدس مکڑی یا یوں کہا جائے منحوس مکڑی جیسی فلم بنا کر امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں گستاخی اور جسارت ڈائریکٹر، پروڈیوسر، کنز فلم فیسٹویل کے ججز اور دیگر افراد کی جہالت کی نشانی ہے ۔  

فلم مقدس مکڑی یا منحوس مکڑی میں ڈائریکٹر اور پروڈیوسر نے مشھد مقدس کو ایک پچھڑے اور ضروری امکانات سے خالی شھر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی ہے مگر سچ یہ ہے کہ مشھد مقدس ایک ترقی یافتہ شھر ہے اور اس میں امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کا حرم مشھد مقدس کا چمکتا ہوا نگینہ ہے ۔

مشھد بادشاہوں کی زیارتگاہ

امام علی ابن موسی الرضا علیہ ‌السلام فقط خراسان ہی نہیں بلکہ پورے ایران اور دنیا کے گوشے گوشے میں رہنے والے محبوں اور چاہنے والوں کے بادشاہ ہیں ، وقت کے بادشاہ اور حکمراں اپ کی نورانی بارگاہ میں سرتعظیم خم کرتے رہے ہیں اور حضرت کی غلامی کو اپنا شرف سمجھتے رہے ہیں ، مشھد مقدس نے طول تاریخ میں لاتعداد بادشاہوں کو دیکھا ہے جو نہایت ادب و احترام ، تواضع اور انکساری کے ساتھ نیز پا برہنہ امام رضا علیہ السلام کی زیارت کو پہنچے ہیں کہ ہم اس مقام پر بعض کے نام کا تذکرہ کررہے ہیں ۔

۱: سن 913 ھ ق میں شاه اسماعیل صفوی شیبک خان پر غلبہ پانے کے بعد مشھد مقدس کی زیارت کے لئے پہنچے ۔ [1]

۲: شاه طهماسب اول، عبید خان ازبک کے مقابل پیروز اور کامیاب ہونے کے بعد کئی مرتبہ مشھد مقدس گئے اور حرم حضرت امام رضا علیہ ‌السلام کی زیارت کو پہنچے نیز انہوں نے حرم کے گنبد پر سنہرا پانی چڑھانے کا حکم دیا ۔ [2]

۳: شاه عباس صفوی اپنی نذر اور منت اتارنے کیلئے سن 1010 ھ ق کو پیدل اصفھان سے مشھد مقدس پہنچے اور اعلان کیا گیا کہ اپ کے وزیروں ، منصب داروں اور حکمرانوں میں سے جو بھی امام رضا علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہتا ہے وہ سواری پر سوار اپ کے ساتھ زیارت کو چل سکتا ہے مگر کسی کو بھی پیدل چلنے پر مجبور نہ کیا گیا ۔ [3]

۴: ناصرالدین ‌شاه کا بھی شمار ان بادشاہوں نے میں ہوتا ہے کہ جو دوبار حضرت رضا علیہ السلام کی زیارت کو پہنچے ، انہوں نے پہلا سفر سن ۱۲۸۶ ھ ق میں اور دوسرا سفر سن ۱۳۰۰ ھ ق میں کیا ، وہ پہلے سفر میں ۳۳ دن تک مشھد مقدس میں حرم امام رضا علیہ السلام کے قریب مقیم رہے ۔

تاریخ کے دامن میں لا تعداد بادشاہوں ، حکمرانوں اور شخصیتوں کا نام موجود ہے جو امام رضا علیہ السلام کی زیارت کو پہنچے ہیں اس کے باوجود کچھ عقل اندھوں نے اپنی جہالت کا ثبوت پیش کرتے ہوئے امام (ع) کے حرم کو قتل و فساد کا مرکز بنا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی ، ان کے اس عمل نے کروڑوں اور عربوں عقیدت مندوں کے دل چھلنی کر دیئے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
1: عالم آراء شاه اسماعیل، ص 346 ۔
2: عالم آراء عباسی، ص 203 ۔
3: تاریخ عالم آراء عباسی، ص 611 ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
5 + 5 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 46