بچوں کے حق میں والدین کی ذمہ داریاں

Wed, 05/18/2022 - 07:20

بچے ماں باپ کے وجود کا بہترین پھل اور خداوند متعال کا حَسِین و گراں بہا تحفہ ہیں ، یقینا اس امانت کے سلسلہ میں قیامت کے دن ماں باپ سے سوال کیا جائے گا ، فراوان دینی منابع اور روایتوں میں ماں باپ پر اولاد کے حقوق اور بچوں کی صحیح تربیت میں ماں باپ کے اہم کردار کی جانب اشارہ ہوا ہے کہ جو اس بات کے بیانگر ہے کہ دین اسلام میں بچوں تربیت جس قدر زیادہ اھمیت کی حامل ہے تاکہ انہیں دنیا اور اخرت دونوں عالم میں کامیابی و کامرانی مل سکے ۔

گرمی کی چھٹیاں قریب ہونے کی وجہ سے ہر ماؓں باپ اپنے بچوں کے خالی اوقات کے لئے مناسب پروگرام بنانے میں مصروف ہیں ، لینگویج language ، کمپیوٹر computer ، کھیل کی کلاسز اور دیگر چیزوں میں داخلہ کرانے اور بچوں کے اسماء اندراج کرنے میں مشغول ہیں تاکہ ان کے خالی وقت کو پر کرسکیں ۔

عصر حاضر میں جوان نسل کے اعتقادات ، اخلاق اور دین پر منحرف مغربی تہذیب کے خطرات کے منڈلاتے ہوئے بادل ، والدین کی شدید تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں اور اس نے ان کی ذمہ داریوں کو دوچندان کردیا ہے تاکہ انہیں اس طرح کے خطرات کے مقابل بیمہ کرسکیں اور دینی منابع کی مدد سے انہیں مناسب راہ و راستہ دکھا سکیں کیوں کہ اگر بر وقت عکس العمل پیش نہ کیا تو خود بھی نقصان اٹھائیں گے اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ناقابل تدارک نقصان سے روبرو کردیں گے ۔

روای نے اس مقام پر مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے روایت نقل کرتے ہوئے کہا « رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ (ص) أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى بَعْضِ الْأَطْفَالِ فَقَالَ وَیْلٌ لِأَوْلَادِ آخِرِ الزَّمَانِ مِنْ آبَائِهِمْ فَقِیلَ یَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ آبَائِهِمُ الْمُشْرِکِینَ فَقَالَ لَا مِنْ آبَائِهِمُ الْمُؤْمِنِینَ لَا یُعَلِّمُونَهُمْ شَیْئاً مِنَ الْفَرَائِضِ وَ إِذَا تَعَلَّمُوا أَوْلَادُهُمْ مَنَعُوهُمْ- وَ رَضُوا عَنْهُمْ بِعَرَضٍ یَسِیرٍ مِنَ الدُّنْیَا فَأَنَا مِنْهُمْ بَرِی‏ءٌ وَ هُمْ مِنِّی بِرَاء » ۔ (۱)

رسول اسلام (ص) نے بچوں کے حالات پر نگاہ ڈالتے ہوئے اخری زمانہ کے بچوں کے حالات اور والدین کی جانب سے ان کے حق میں پیدا کی جانے والی مشکلات پر اظھار افسوس کیا تو روای نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ (ص) مشرک والدین سے ؟ فرمایا نہیں ! مسلمان والدین سے کہ جو انہیں واجبات دین کی تعلیم نہیں دیتے اور اگر بچے خود اسے سیکھنا چاہتے ہیں تو روکتے ہیں ، بچوں کے ذریعہ دنیا کا کمترین سرمایہ حاصل کرنے پر خوش ہوتے ہیں ، میں ایسے لوگوں سے بیزار ہوں اور وہ لوگ مجھ سے بیزار ہیں ۔

یہ عظیم روایت ، رسول اسلام (ص) کا واضح بیان اور اپ کی گفتگو بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت ، خدا و رسول اور قیامت پر اعتقادات میں استحکام لانے کے حوالے سے والدین کی ذمہ داریوں کو دوچندان کردیتی ہے ، البتہ موجودہ حالات مقام افسوس ہیں کہ ہمارا معاشرہ اسی جانب گامزن ہے اور والدین یا گھر کے ذمہ دار افراد اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلانے اور انہیں اسلامی اعتقادات و اخلاقیات سے اگاہ کرنے کی بہ نسبت بے توجہ ہیں ۔

قران کریم نے بچوں کو دینی تعلیمات دینے کے حوالے سے فرمایا « یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَکُمْ وَأَهْلِیکُمْ نَاراً وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ؛ اے ایمان والو اپنے نفس اور اپنے اہل کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے » ۔ (۲) اور دوسری ایت میں فرمایا « قُلْ إِنَّ الْخاسِرینَ الَّذِینَ خَسِروْا أَنفُسَهمْ وَأَهْلِیهمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ؛ [اے پیغمبر] کہہ دیجئے کہ حقیقی خسارہ والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے نفس اور اپنے اہل کو قیامت کے دن گھاٹے میں رکھا ، آگاہ ہوجاؤ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے » ۔ (۳) یقینا قران کریم اس ایت کریمہ میں جس گھاٹے کا تذکرہ ہے وہ دنیاوی چیز کا نقصان نہیں ہے بلکہ اخرت کا نقصان ہے کہ جس کی ایک بنیاد دینی علوم سے لاعلمی اور لا تعلقی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:
۱: شعیری ، شیخ تاج‌الدین محمد ، جامع الأخبار، ص۱۰۶
۲: قران کریم ، سورہ تحریم ، ایت ۶
۳: قران کریم ، سورہ زمر ، ایت ۱۵ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 3 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 49