کفو

Wed, 05/04/2022 - 15:28

شادی اور ازدواجی زندگی کی تشکیل میں دیگر دست و پا گیر مسائل و مشکلات کی طرح ایک مسئلہ کفو کا ہے ، اور حقیقت امر یہ ہے کہ اکثر عوامی طبقہ کفو کے صحیح مفھوم و معنی سے ناواقف اور لا علم ہے ، لوگ بہت ساری چیزوں کو اپنی شان وشوکت کی خصوصیت اور اپنا حق سمجھتے ہیں ، جن کی حیثیت تکلفات سے زیادہ نہیں ہے ، لڑکی والے کہتے ہیں کہ ہم اپنی بیٹی کی شادی کس طرح کریں کہ ہمیں ابھی تک کوئی ائڈٰیل لڑکا نہیں مل سکا یعنی مالدار ہو ، بڑا خاندان ہو ، زندگی کی تمام اسباب و وسائل فراھم ہوں نیز ذات پات جیسے دیگر خرافاتی مسائل ۔ بعض افراد اور خاندان اس طرح کے قیود و شرائط سے عاجز آچکے ہیں اور معاشرہ کو قصوروار ٹھراتے ہیں جبکہ اس بات سے غافل ہیں کہ اس طرح کا معاشرہ خود انہوں نے تشکیل دیا ہے ۔

اسلام میں کفو کا مطلب مال و دولت ، جاہ و منصب اور مادیت کی برابری نہیں ہے بلکہ اگر وہ افراد دینی و اخلاقی اعتبار سے برابر ہیں تو وہ ایک دوسرے کے کفو ہیں اور اسلام نے ایک دوسرے پر برتری کا معیار تقوائے الھی و پرھیزگاری رکھا ہے جیسا کہ قران کریم نے ارشاد فرمایا کہ «یا أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنْثى وَ جَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلیمٌ خَبیرٌ؛ مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے۔ (۱)

"جویبر" رسول اسلام(ص) کے صحابی یمامہ کے رہنے والے تھے ، مدینہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا ، کوتاہ قد ، محتاج و برھنہ اور کسی قدر بدصورت بھی تھے ، پیغمبر اسلام (ص) اپ کو کافی تسلی دیتے تھے اور انحضرت (ص) کے حکم کے مطابق جویبر راتوں کو مسجد میں ہی سوتے تھے اور اسی طرح رفتہ رفتہ ان مہاجروں اور غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا جن کا ٹھکانہ مسجد تھا ۔

پیغمبر اسلام (ص) پر وحی نازل ہوئی کہ ان لوگوں کو مسجد کے باہر جگہ دی جائے ، رسول خدا (ص) نے اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے حکم دیا کہ پناہ گزینوں کے لئے ایک الگ سے جگہ تعمیر کی جائے بعد میں اس جگہ نام "صفہ" قرار پایا اور اس مقام پر رہنے والوں کو اسی مناسبت سے "اصحاب صفہ" کہا جاتا ہے ۔

ایک دن پیغمبر اسلام (ص) نے شفقت بھری نگاہ سے جویبر کو دیکھا اور شادی کرنے کی پیش کی ، جویبر نے کہا میرے ماں باپ اپ ہر قربان ، کون لڑکی مجھ سے شادی کرنے پر تیار ہوگی ، خدا کی قسم میرا نہ کوئی حسب و نسب ہے ، نہ مال و دولت ہے اور خوبصورت بھی نہیں ہوں ، پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا  : اسلام مبین نے جاہلیت کی رسم و رواج کو ختم کردیا ہے وہ لوگ جو اُس زمانے میں پست تھے اسلام لانے کے بعد باعزت و محترم ہوگئے ، جو جاہلیت میں دولت و ثروت و جاہ و منصب کی بناء پر اپنے کو با عزت و با وقار سمجھتے تھے اج وہ احکام خدا کی نافرمانی کی وجہ سے اسلام کی نگاہ میں ذلیل و رسوا ہوگئے ، جویبر تمام انسان گورے ، کالے ، عرب و عجم سب کے سب فرزند ادم (ع) ہیں اور خدا نے حضرت ادم (ع) کو مٹی سے پیدا کیا ، قیامت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ احکام الھی کی پیروی کرنے والا اور پرھیز گار ہو "«یا أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنْثى وَ جَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلیمٌ خَبیرٌ؛ مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے ۔ (۲) ، اس بناء پر کسی بھی انسان کو تم پر فوقیت حاصل نہیں ہے مگر تقوائے الھی اورع پرھیز گاری کی بنیاد پر ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
۱: قران کریم ، سورہ حجرات ۔ ایت ۱۳
۲: وہی

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
3 + 4 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 46