احکام فطرہ (۲)

Sat, 04/30/2022 - 06:28
احکام فطرہ

جب کنبے اور خانوادے کا ذمہ دار و سرپرست کہ جس کی گردن پر خانوادہ کا خرچ اور نفقہ ہے ، فطرہ ادا کردے تو کنبے کے دیگر افراد فطرہ دینے سے معاف ہوجاتے ہیں ، اس مقام پر ایک سوال یہ ہے کہ اگر کنبے کے افراد میں سے کوئی ملازمت کرتا ہو ، نوکری پیشہ ہو ، درامد رکھتا ہو تو کیا تب بھی خانوادے کے ایسی فرد کا فطرہ خانوادہ کے ذمہ دار ، سرپرست اور جس کی گردن پر خانوادہ کا خرچ ہے اس پر واجب ہے اور ایسے افراد معاف ہیں ؟  

جی ہاں ! کیوں کہ فطرہ ادا کرنے کیلئے میعار یہ ہے کہ انسان نفقہ کا ذمہ دار ہو، چاہے کنبے اور خانوادے کے افراد ، چھوٹے ہوں ، بڑے ہوں ، عاقل ہوں ، دیوانہ ہوں ، مسلمان ہوں یا غیر مسلمان ہوں دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ غیر مسلمان اور بچے پر بھی فطرہ ہے مگر اس کا فطرہ اس کے نفقہ اور خرچ کا ذمہ دار ادا کرے گا ۔

نومولود اور مان کے پیٹ میں موجود بچہ کا فطرہ

اگر کوئی بچہ ماہ مبارک رمضان کے اخری دن افتاب غروب ہونے کے بعد متولد ہو ، پیدا ہو تو اس اس کا فطرہ نہیں ہے ، اور اگر غروب افتاب سے پہلے پیدا ہو تو اس کا فطرہ ہے ، باپ یا وہ انسان کی جس کی گردن پر ماں کا خرچ ہے اس نومولود کا فطرہ ادا کرے گا ۔ البتہ ماں کے شکم میں موجود بچہ کا فطرہ نہیں چونکہ وہ نفقہ میں شامل نہیں ہے ۔

دلہن کا فطرہ

اگر ماہ مبارک رمضان کے اخری دن افتاب غروب ہونے سے پہلے دلہن اپنے مائکے [ باپ کے گھر] سے رخصت ہوکر سسرال چلی جائے اور اپنی ازدواجی زندگی شروع کردے تو اس کا فطرہ شوھر کے ذمہ ہے ، اور اگر ماہ مبارک رمضان کے اخری دن افتاب غروب ہونے کے بعد اپنے سسرال جائے تو اس کا فطرہ والد کے ذمہ ہے ، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اگر کسی لڑکی کا فقط عقد ہوا ہو اور اس کی رخصتی نہ ہوئی ہو تو اس کا فطرہ والد کے ذمہ ہے ۔

شب عید فطر میں آنے والے مہمان کا فطرہ

ایک اور مسئلہ جس کے بارے میں بہت زیادہ سوال کیا جاتا ہے وہ مہمان کا فطرہ ہے کہ ایا مہمان کا فطرہ میزبان ادا کرے یا خود مہمان اپنا فطرہ ادا کرے گا ؟

ماہ مبارک رمضان کے اخری دن افتاب غروب ہونے سے پہلے اور شب عید فطر میں انے والے مہمان کے سلسلہ میں مراجع تقلید کے نظریات و فتوا مختلف ہیں کہ ہم اس مقام پر کچھ کی جانب اشارہ کر رہے ہیں :

امام خمینی رحمه ‌الله علیہ: شب عید فطر میں غروب سے پہلے میزبان کی رضا مندی سے انے والے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہے ۔

حضرت آیت الله خوئی رضوان اللہ علیہ: اگر نفقہ کے ضمن میں اجائے تو احتیاط واجب کی بناء پر میزبان فطرہ ادا کرے گا اور وگرنہ نہیں ۔

حضرت آیت الله سیستانی : میزبان پر واجب ہے کہ وہ ماہ مبارک رمضان کے اخری دن افتاب غروب ہونے سے پہلے انے والے مہمان کا فطرہ ادا کرے ۔ البتہ اگر کسی کو فقط افطار کیلئے دعوت دی گئی ہو اور وہ رات میں قیام نہ کرے تو اس کا فطرہ میزبان کے ذمہ نہیں ہے ۔

حضرت آیت‌الله خامنہ ای: ایک رات کا مہمان نفقہ کے ضمن میں شمار نہیں ہوتا اس لئے اس کا فطرہ میزبان کی گردن پر نہیں ہے بلکہ خود مہمان اپنا فطرہ ادا کرے ۔

حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی: اگر مہمان فقط شب عید فطر میں مدعو ہوا ہو تو اس کا فطرہ میزبان پر نہیں ہے ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
3 + 6 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 45