غدیر، قرآن و حدیث کی روشنی میں (۹)

Thu, 06/27/2024 - 11:36

گذشتہ سے پیوستہ

یعنی ایسی حکومت وہ حکمرانی نہیں ہے جس کا تعین اسلام نے کیا ہے اگر ہم فرض کریں کہ حکومت کی چوٹی پر ایسے افراد ہوں جن کا عوام سے کوئی تعلق نہ ہو، یہ ولایت نہیں ہے ، اگر ایسے لوگ ہوں جن کا عوام سے رابطہ خوف و ہراس اور رعب و وحشت پر مبنی ہو اور محبت و التیام اور پیوستگی پر مبنی نہ ہو، تو یہ ولایت نہیں ہے ، اگر کچھ لوگ فوجی [یا کسی بھی قسم کی] بغاوت کے نتیجے میں بر سر اقتدار آئے ہوں، تو [ان کی] یہ حکومت، ولایت نہیں ہے۔ اگر کوئی موروثی اور خاندانی اور نَسَبی جانشینی [اور ولی عہدی] کے عنوان سے - اور وہ حکمرانی کے لئے شرط کی حیثیت رکھنے والی حقیقی کیفیات و فضائل کے بغیر، جو کہ حکمرانی کے لئے شرط کی حیثیت رکھتے ہیں - بر سر اقتدار آئے ہوں، تو [ان کی] یہ [حکومت] ولایت نہیں ہے۔ ولایت اس وقت ہے جب والی یا ولی اور ان لوگوں کے درمیان، جن کا وہ ولی ہے، قریبی، خلوص بھرا تعلق اور محبت بھرا رشتہ ہو جیسا کہ خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے بارے میں بھی ہے؛ یعنی "بَعَثَ فيهِم رَسولًا مِن أَنفُسِهِم" (آل عمران, 164)  یا "بَعَثَ فِي الأُمِّيّينَ رَسولًا مِنهُم" (جمعہ، 2) (یعنی رسول کے لئے شرط یہ ہے کہ) اللہ نے اسے ان ہی میں سے مبعوث فرمایا ہو؛ یعنی لوگوں میں سے ہی کوئی ہو جو ولایت و حکومت کہ عہدہ دار ہو۔ اسلام کی حاکمیت [اور اسلام میں حکمرانی) کا اصول یہ ہے"۔ (۱)

لفظ ولی کی سادہ ترین تشریح

ایران کے ایک سنی عالم دین "علامہ شریف زاہدی"، جو اہل سنت کے مدارس کے فارغ التحصیل ہیں اور تحقیق کے بعد مذہب شیعہ اختیار کر چکے ہیں اپنی کتاب "باید شیعہ می شدم [مجھے شیعہ ہونا چاہئے تھا]" میں لکھتے ہیں:

"ہر وقت سوچتا رہتا تھا کہ کس طرح سے ثابت کروں کہ حدیث غدیر میں "مولا" سے مراد "دوست" نہيں ہے بلکہ اس کے معنی "پیشوا" اور "رہبر و سرپرست اور حاکم" کے ہیں۔ راقم ایک دفعہ "مولوی محمد عمر سربازی" کی کتاب پڑھ رہا تھا۔ کتاب پڑھ کر بند کرلی تو نظر جلد کے اوپر لکھے ہوئے نام پر پڑی؛ لکھا تھا: "<مولانا> محمد عمر سربازی"۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ مولوی حضرات سے لفظ "مولانا" کے معنی پوچھ لوں اور ان سے سوال کروں کو مولوی محمد عمر سربازی کو "مولانا" کیوں کہتے ہیں؟ کئی مولویوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا: لفظ "مولانا" میں مولا کے معنی "[بلوچی میں:] ہمارے واجہ، ہمارے رہبر، ہمارے پیشوا!" وغیرہ۔

میں نے ان سے کہا: حیران ہوں! "مولا" کا لفظ آپ کے اکابرین کے لئے رہبر و پیشوا کے معنی میں آتا ہے لیکن اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے کلام میں یہی لفظ "دوست" کے معنی میں آیا ہے!!!

چلتے چلتے بات یہاں تک پہنچی کہ ایک روز ایک سنی دوست مجھ سے ملنے آیا تو میں نے اس کے ساتھ اہل بیت (علیہم السلام) کی حقانیت کے سلسلے میں تفصیلی گفتگو کی اور غدیر خم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے خطبے سے استناد کیا۔ ہمارا سنی دوست کہہ رہا تھا کہ خطبہ غدیر میں لفظ "مولا" کے معنی "دوست" کے ہیں اور اس کے معنی سرپرست اور پیشوا اور رہبر کے نہیں ہیں۔ میں دلائل لاتا رہا اور وہ بغیر کسی دلیل و سند و ثبوت کے انکار کرتا رہا اور آخرکار وہ وداع کرکے سیستان و بلوچستان کی طرف روانہ ہوا ۔

جاری ہے  ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ :

۱: رھبر معظم کی تقریر سے اقتباس ، ۲۶ اپریل ۱۹۹۷ ء

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
12 + 4 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 95