غدیر، قرآن و حدیث کی روشنی میں (۶)

Sun, 06/23/2024 - 16:57

گذشتہ سے پیوستہ

۲: غدیر اتحاد بین المسلمین کا محور ہے، اور تفرقے اور انتشار کا سبب نہیں ہے، کیونکہ اولاً اکثر سنی علماء اور محدثین کا اتفاق ہے کہ غدیر کا واقعہ رونما ہؤا ہے اور غدیر کے مقام پر امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی ولایت و خلافت کا اعلان ہوچکا ہے اور ثانیاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی شہادت کے بعد کے تاریخی ایام کے دشوارترین حالات میں بھی، خود امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کا سیاسی رجحان امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی پر استوار تھا؛ خواہ شہادت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے وقت، خواہ مسلمانوں کے معاملات آگے بڑھانے میں خلفاء کو مشورہ دیتے وقت، [یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب بہت سارے مواقع پر آپ کے مشوروں کی بنیاد پر مسائل کے حل ہوجانے کے بعد کہتے رہے ہیں: لَوْلَا عَلِيٌّ لَهَلَكَ عُمَرُ؛ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا" (۱) ]، خواہ چھ رکنی شوریٰ کے معاملے میں۔ (جب آپ نے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کی طرف سے شوریٰ کی رکنیت سے منع کئے جانے کے جواب میں فرمایا: "إِنِّى أَكْرَهُ الْخِلاَفَ؛ میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں"۔ (۲)، خواہ تیسرے خلیفہ کے خلاف اٹھنے والی بغاوت کے مسئلے میں، (جس کے دوران آنجناب عثمان کے گھر کھانا اور پانی بھجواتے رہے اور اپنے بیٹوں حسن اور حسین (علیہما السلام) کو ان کی حفاظت کے لئے بھجوایا اور وہ دونوں خلیفہ پر ہونے والے حملے میں زخمی ہوئے)۔

 

۲: ذیل کی آیت کریمہ میں عبارت "مَعَ سُلَيْمَانَ" سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور خدائے متعال پر ایمان، صرف اور صرف اللہ کے ولی کی ولایت کے راستے سے گذرتا ہے، ارشاد ہؤا:

"قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ ۖ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا ۚ قَالَ إِنَّهُ صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِيرَ ۗ قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ؛ (۳)

کہا گیا اس (بلقیس) سے کہ داخل ہو ایوانِ قصر میں۔ تو جب اس نے اسے دیکھا تو گمان کیا کہ گویا بہت زیادہ پانی ہے (جھیل کی طرح) اور پائینچے پنڈلیوں سے اوپر چڑھا لئے [بزعم خود، پانی میں داخل ہونے کے لئے]، سلیمان نے کہا ارے یہ تو [پانی نہیں بلکہ] شیشے سے منڈھا ہؤا ہموار احاطہ ہے۔ اس [ملکۂ سبا] نے کہا اے میرے پروردگار یقیناً میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ جہانوں کے پروردگار کی فرمانبردار بنی"۔

۳: خطبۂ غدیر کے سلسلے میں ایک انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ اس خطبے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے بارہ اماموں کے نام بڑے واضح انداز سے بیان فرمائے ہیں اور کئی فقروں میں امام حسن اور امام حسین (علیہما السلام) کی امامت کا ذکر کیا ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ :

۱: الکافی، الکلینی، ج۷، ص۴۲۴؛ الفخر الرازی؛ محمد بن عمر البكری الشافعی، التفسير الكبير (دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثالثة - ۱۴۲۰ھ)، ج۲۱، ص۳۸۰؛ الباقلانی، تمهید الاوائل، ص۴۷۶؛ ماوردی شافعی، ج۱۲، ص۱۱۵ و ج ۱۳، ص۲۱۳؛ منصور بن محمد سمعانی، تفسير القرآن، ج۵ ، ص۱۵۴؛ ابوبکر بن عربی، العواصم من القواصم، ج۱ ، ص۲۰۳۔

۲: ابن ابي الحديد، شرح نهج البلاغۃ، ج۱، ص۱۹۱ ۔

۳: قران کریم، سورہ نمل، آیت ۴۴ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 5 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 45