غدیر، قرآن و حدیث کی روشنی میں (۸)

Wed, 06/26/2024 - 11:09

گذشتہ سے پیوستہ

ولایت کے معنی

رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) خطبہ غدیر میں "ولایت" کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"دوسرا پہلو، جس کے لفظ اور مضمون پر آج روشنی ڈالنا چاہتا ہوں وہ لفظ "ولایت" ہے جو واقعۂ غدیر میں کئی مرتبہ دہرایا گیا ہے:

"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ"۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس تاریخی واقعے اور اس عظیم تعین و تقرر میں حکومت کو لفظ "ولایت" کے ساتھ بیان کیا۔ عربی سمیت متعدد دوسری زبانوں میں، اس شیئے کے لئے - جس کا نام حکومت، زمام داری، حکمرانی [فرمانروائی] و غیرہ ہے - مختلف الفاظ بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ یعنی معاشرے پر حکومت اور فرمانروائی کرنے والے فرد یا جماعت کے بارے میں مختلف الفاظ و عبارات کو بروئے کار لایا گیا ہے، جن میں سے ہر لفظ یا عبارت کا اشارہ ایک خاص جہت اور پہلو کی طرف ہوتا ہے۔

مثلاً لفظ "حکومت" اس بات کی طرف اشارہ ہے اس شخص کی طرف جو بر سر اقتدار ہے یا ایک جماعت کے افراد کی طرف جو بر سر اقتدار ہیں، حکم چلاتے ہیں، اور معاشرہ اور عوام ان کی اطاعت کرتے ہیں۔

ایک عبارت یا لفظ "سلطنت" ہے، جو مسلط ہونے، طاقتور اور مقتدر ہونے اور امور و معاملات کو زیر تسلط لانے کے معنی میں ایا ہے۔ فارسی میں بھی یہی الفاظ و عبارات ہیں۔ بطور مثال زمامداری، حکومت کی ایک جہت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یا مثلاً "حکمرانی" اور "فرمان دہی" جیسے الفاظ ہر ایک، ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اسلام میں زیادہ تر "ولایت" کے لفظ کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ خطبۂ غدیر میں بھی اور "إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسولُهُ وَالَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلاةَ وَيُؤتونَ الزَّكاةَ وَهُم راكِعونَ" (۱) میں بھی حکومت کے لئے "ولایت" کا لفظ استعمال ہؤا ہے۔

ولایت، کے معنی عجیب ہیں۔ ولایت کے اصل معنی دو چیزوں کی ایک دوسرے کے ساتھ قرابت کے ہیں۔ فرض کیجئے دو رسیوں کو ایک ساتھ مضبوطی سے بُنا جاتا ہے اور انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کو عربی میں "وِلایت" کہتے ہیں وِلایت یعنی دو چیزوں کے درمیان مستقل اور جڑا ہؤا جاری اور مستحکم باہمی "اتصال و ارتباط" اور "قرب و تعلق"۔ عربی میں اس کے لئے بہت سے معانی بھی آئے ہیں جیسے محبت، قَیُّومِیَّت اور سرپرستی (Guardianship) وغیرہ، عربی میں اس کے سات یا آٹھ معانی ہیں؛ اوراسی بنا پر ان تمام معانی میں، ولایت کے دو فریقوں کے درمیان یہ "قرب" اور قرابت موجود ہے۔ مثلاً "ولایت" کے معنی محبت کے ہیں؛ کیونکہ محبّ اور محبوب، کے درمیان ایک روحانی تعلق اور اتصال پایا جاتا ہے اور انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنا، ممکن نہیں ہے۔

اسلام، حکومت کو "ولایت" کے سانچے میں بیان کرتا ہے اور جو شخص حکومت کی چوٹی پر قرار پاتا ہے، اسے "والی" اور "ولی"، "مولا" جیسے الفاظ و عناوین سے متعارف کرایا جاتا ہے اور یہ الفاظ، لفظ "ولایت" کے مشتقات ہیں۔ اس کے معنی کیا ہیں؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام کے سیاسی نظام میں اقتدار کی چوٹی پر متعین ہونے والے شخص، اور ان لوگوں کے درمیان، جن پر وہ حکومت کرتا ہے، ارتباط، اتصال اور ناقابل جدائی پیوستگی پائی جاتی ہے ، یہ اس قضیے کے معنی ہیں ، یہ ہمارے لئے اسلام کے سیاسی فلسفے کی تشریح کرتا ہے ، جو حکومت ایسی نہ ہو، وہ ولایت نہیں ہے ۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱: قران کریم، سورہ مائدہ، ایت ۵۵ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
2 + 3 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 42