غدیر، قرآن و حدیث کی روشنی میں (۴)

Sat, 06/22/2024 - 16:26

گذشتہ سے پیوستہ

۱: متعدد شیعہ اور سنی مصادر میں منقولہ احادیث کے مطابق یہ آیت غدیر کے دن امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی ولایت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور آنجناب کی ولایت کے بارے میں اس آیت کا نزول، "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ" میں لفظ "مولا" کے معنی پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے؛ اور وہ یوں کہ اولاً جو چیز اکمالِ دین، اتمامِ نعمت اور دین اسلام سے [منافق] کافروں کی مایوسی کا سبب بنتی ہے، عقلاً امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی دوستی ہی کا اعلان نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم واقعہ ہے جو آنجناب کی ولایت و امامت و پیشوائی کے اعلان سے عبارت ہے؛ ثانیاً خداوند حکیم عزّ و جلّ کا پسندیدہ اسلام وہ ہے جو ولایت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے متصل ہو، کیونکہ آپ کی ولایت کے اعلان کے بعد اللہ نے اس کے اکمال اور نعمت کے اتمام کا اعلان کیا۔ [اور آیت تبلیغ میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے ارشاد ہؤا کہ اگر آپ نے یہ ابلاغ نہ فرمایا تو آپ کی رسالت انجام کو نہیں پہنچے گی: فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ]۔

دیگر پیغامات:

۱:  سقیفہ تاریخ اسلام میں سیاسی علمانیت (Secularism) کے نظریئے کے نفاذ کا آغاز تھا، جبکہ غدیر نے اس نظریئے کو باطل کرکے رکھ دیا ہے۔ غدیر کی حقیقت اسلامی حکومت ہے؛ حضرت امام سید روح اللہ خمینی (رضوان اللہ علیہ) حقیقتِ غدیر کے بارے میں فرماتے ہیں:

"اس عید کا احیاء نہ [صرف] اس لئے ہے کہ چراغانیاں ہوں، قصیدہ خوانیاں ہوں اور مداحیاں ہوں؛ یہ سب اچھے [اعمال] ہیں لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں سکھایا جا رہا ہے کہ کس طرح اتّباع اور پیروی کریں، ہمیں سکھا رہے ہیں کہ غدیر اُس زمانے تک محدود نہیں ہے، غدیر کو تمام زمانوں اور ادوار و اعصار میں ہونا چاہئے، اور جو روش حضرت امیر (علیہ السلام) نے اس حکومت میں اختیار کی ہے، اس کو حکومتوں اور [معاشروں] کے منتظمین کی روش ہونا چاہئے۔ غدیر کا مسئلہ ایک حکومت کی تخلیق [اور قیام] کا مسئلہ ہے؛ یہی [حکومت] قابل نصب و تعیین ہے، ورنہ تو معنوی [اور روحانی] مراتب و مقامات قابل نصب و تعیین نہیں ہیں؛ یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کو نصب و تعیین کے ذریعے معرض وجود میں لایا جا سکے؛ جبکہ اس [حکومت] کو نصب و اور متعین کیا جا سکتا ہے۔ اور ہاں وہ معنوی اور روحانی مقامات و مراتب [امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی ذات با برکات میں] موجود تھے اور آپ تمام اوصاف کا مجموعہ تھے، جو اس امر کا باعث بنے ہيں کہ [اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی طرف سے یہ بزرگوار حکومت پر نصب ہوئے ہیں، لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ان اوصاف کو صوم و صلاۃ اور اس قسم کے اعمال کے زمروں میں لایا جاتا ہے، اور ولایت ان سب کو نافذ کرتی ہے۔ جو ولایت حدیث غدیر میں ہے، وہ حکومت کے معنی میں ہے، نہ کہ روحانی اور معنوی مقامات و مراتب کے ہم معنی۔۔۔

جاری ہے ،،،،،

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 2 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 149