رسول خدا (ص) کے اهم معاشرتی اصول (۱)

Thu, 04/18/2024 - 06:41

خداوند متعال کا سوره آل عمران آیت 159 میں ارشاد ہے :«فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِين ؛ پس عظیم رحمت الهی  کی وجه سے آپ (اے رسول) ان (لوگوں) کے لئے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تندخو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے پس ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے مغفرت طلب کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ کرلیا کریں پھر جب آپ عزم کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں ، بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے » ۔ (۱)

خداوند متعال اس آیت کریمہ میں اپنے حبیب صلی الله علیه وآله وسلم سےخطاب کرتے ہوئے ان کی بعض اهم خصوصیات اور معاشرے میں آپ صلی الله علیه وآله وسلم کی کامیابی  کے رازوں اوربعض  معاشرتی راهنما اصولوں سے پردہ اٹھایا ہے جس کی ہم اس مقام پر تذکرہ کریں گے ۔

۱: شفیق اور مهربان ہونا؛ رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم  کی ذاتی خصوصیت اور معاشرے میں ان کی کامیابی کا اہم ترین راز، آپ کا مهربان اور شفیق هونا ہے۔ آیت کا یہ حصہ «فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ» یہ بتاتا ہے کہ آپ کا پورا وجود سرچشمہ رحمت ہے لہذا جو شخص مسلمان ہونے کا دعوی کرتا ہے اسےاس صفت کا مالک ہونا ضروری ہے جیسا که سوره مبارکہ فتح میں فرماتا ہے «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَ الَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُم‏ ؛ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت گیر اور آپس میں مہربان ہیں» (۲) ، یہ ایت بھی اس پر بات دلالت کرتی ہے ، رحمت ، غضب کی ضد ہے جہاں رحمت ہوگی وہاں غضب نہیں ہوگا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پورا وجود ہی رحمت ہے جیسا کہ قران کریم نے ایک اور مقام پر فرمایا «وَ ما أَرْسَلْناكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعالَمِين؛ ہمیں اپ کو نہیں بھیجا مگر عالمین کے لئے رحمت بنا کر‏» (۳) لہذا معاشرے میں ہمیں رحمت کا مصداق بننا ضروری ہے۔

۲:نرم مزاج ہونا؛ پیغمبر(صلی الله علیه وآله وسلم) کی ذاتی خصوصیت اور معاشرے میں ان کی کامیابی کا دوسرا اہم  راز، آپ کا نرم مزاج ہونا ہے۔ آیت کا یہ ٹکڑا «فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ» سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ نرم مزاجی کا الله کی رحمت سے براہ راست تعلق ہے، «لِنْتَ لَهُمْ» آپ لوگوں کے لئے نرم مزاج واقع ہوئے اور یہ اللہ کی رحمت ہی کا نتیجہ ہے ، اس آیت میں رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم سے براہ راست خطاب ہے کہ اے پیغمبر! آپ نرم مزاج ہیں اور یہی آپ کی کامیابی کا سبب ہے:«لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَة ؛ بتحقیق تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے » ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ :

۱: قران کریم ، سورہ آل عمران، آیت ۱۵۹ ۔

۲: قران کریم ، سورہ فتح ، آیت ۲۹ ۔

۳: قران کریم ، سورہ انبیاء ، ایت ۱۰۷ ۔

۴: قران کریم ، سورہ احزاب ، ایت ۲۱ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
2 + 12 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 45