عوامی نمائندوں کے وظائف

Fri, 03/01/2024 - 07:38

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ تَوَلّی أمْراً مِن اُمُورِ النّاسِ فَعَدَلَ وَ فَتَحَ بابَهُ وَ رَفَعَ شَرَّهُ وَ نَظَرَ فی اُمُورِ النّاسِ کانَ حَقّاً عَلَی اللّهِ عَزَّوَجَلَّ أَن یُؤَمِّنَ رَوْعَتَهُ یَومَ القِیامَةِ وَ یُدْخِلَهُ الجَنَّه ۔

جو شخص لوگوں کے امور کی زمام و باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے اور عدل و انصاف سے کام لے اور اپنے گھر کا دروازہ لوگوں کے لئے کھلا رکھے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں اور وہ لوگوں کے امور کو انجام دے تو قیامت کے دن خداوند متعال پر اس کا یہ حق ہے کہ اسے ہر قسم کے خوف و ہراس سے محفوظ رکھے اور اسے بہشت میں داخل کرے ۔

سلامی حکومت کے کارندوں کے اخلاقیات امام علی (ع) کے نقطہ نظر میں

انسان فطرتا سماجی موجود ہے لہذا اپنی سماجی حیات اور زندگی بسر کرنے کے لئے حکومت تشکیل دینے پر مجبور ہے ، اس لحاظ سے کچھ مندرجہ ذیل باتوں پر توجہ لازم و ضروری ہے :

۱: ملک اور سماج کو اچھی طرح ادارہ کرنے کے لئے کام تقسیم کئے جائیں اور کچھ لوگوں کو ذمہ داریوں کے لئے منتخب کیا جائے ۔

۲: تمام کارندے اور ملازمین ایک دوسرے کے ساتھ ملکر ایک منظم مجموعہ تشکیل دیں تا ملک بہتر طریقہ سے ادارہ ہوسکے ۔

۳: حکومت کی ہر ایک فرد کے اندر حکومت ادارہ کرنے کی توانائی موجود ہونا چاہئے ۔

۴: اگر کسی ایک کارندے میں حکومت ادارہ کرنے کی توانائی اور صلاحیت موجود نہ ہو تو معاشرہ اور حکومت مشکلات سے روبرو ہوجائے گی ۔

۵: لہذا حکومت کی ہر ایک فرد اور ہر ایک کارندے پر مستقل نظارت کی جائے ، ان کی صلاحیتوں کو ازمایا جائے اور خطا کاروں کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش ایا جائے ۔

کارندوں کے انتخاب کا معیار

امام علی علیہ السلام کی نگاہ میں حکومت کا فلسفہ حق کا احیاء ، باطل کی نابودی اور انسان کو زمین سے اٹھا کر اسمان تک پہنچانا ہے ، یہ مقصد نیک صفت اور صالحان کے حکومت کے سوا حاصل نہیں ہوسکتا ، یہ بات بھی بخوبی واضح ہے کہ امام اور حاکم کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت اور ملازمت کے لئے معاشرہ کے بہترین افراد کا انتخاب کرے اور خطاوں و لغزشوں کے درصد میں کمی لائے ، اسی بنیاد پر امام علی ابن  ابی طالب علیہ السلام نے اپنی بیعت کے بعد گذشتہ حکومت کے کارندوں کو ان کی پوسٹ سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ معقول و مناسب افراد معین کئے ۔

امام علی علیہ السلام نے اپنے کارندوں کے انتخاب میں جس معیار کو قرار دیا اس کی بنیاد قران کریم اور دینی تعلیمات تھیں کہ جو خداوند متعال اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے مورد رضا تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ :

مجلسی ، محمد باقر، بحارالانوار، ج ۷۵، ص ۳۴۰ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
9 + 6 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 48