امّ البنین، سرکار وفا (ع) کی مادر گرامی

Sun, 01/16/2022 - 07:24
ام البنین (ع)

فاطمہ کلابیہ معروف بہ امّ البنین، حضرت ابوالفضل العباس سلام ‌الله ‌علیہ کی مادر گرامی، ایک عظیم المرتبت، صاحب کمال اور بافضیلت خاتون ہیں کہ ان میں سے بعض کا ہم یہاں پر تذکرہ کررہے ہیں ۔

۱: بہادر، نڈر اور طیب و طاھر گھرانے میں پرورش:

جناب فاطمہ کلابیہ (امّ البنین) کی ایک بہادر، نڈر اور طیب و طاھر گھرانے میں پرورش ہوئی جیسا کہ تاریخ نے لکھا کہ جب مولائے متقیان حضرت امام علی علیہ السلام نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد اپ کو اپنی اہلیہ کا رتبہ عطا کرنے کا ارادہ کیا اور انہیں اپنے عقد میں لانے کا فیصلہ فرمایا تو جناب عقیل سے کہا کہ « میری لئے ایک ایسی خاتون کا انتخاب کریئے جو عرب کے دلیر اور بہادر مردوں کی نسل میں سے ہو تاکہ اس سے شادی کروں اور وہ میرے لئے ایک بہادر و گھوڑے سوار بیٹے کو جنم دے » ۔  جناب عقیل کہ جو خود نساب العرب تھے انہوں نے جناب فاطمہ کلابیہ یعنی جناب ام البنین (ع) کی معرفی کی اور عقد کیلئے انہیں پیش کیا۔

۲: خاندان وحی کے حق میں ام البنین (ع) کا احترام:

جناب ام البنین علیہا السلام جب رخصت ہوکر مولائے کائنات علی علیہ السلام کے گھر تشریف لائیں تو اپ نے مولا (ع) کی خدمت میں عرض کیا کہ میرا نام "فاطمہ" ہے مگر مجھے اج سے ام البنین (ع) کے نام کے سے یاد کیا جائے تاکہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اس نام کو سنکر اپنی مادر گرامی کی یاد نہ آئے اور نتیجہ میں ماضی کے تلخ واقعات و حقائق بچوں کی نگاہوں میں نہ دوڑیں ، انہیں تکلیف نہ ہو اور کبیدہ خاطر نہ ہوں ۔

۳: امام کی شناخت

امام وقت علیہ السلام کی شناخت، حضرت ام البنین علیہا السلام کی شخصیت کا وہ اہم پہلو ہے جسے آپ نے اپنے بچوں میں بھی منتقل کیا اور یہ گوشہ جہاں حادثہ کربلا میں اپ کے بچوں میں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملا وہیں خود اپ کے اندر بھی دیکھنے کو ملا ۔ جب اپ کو واقعہ کربلا کی غم انگیز خبر کیساتھ اپنے چاروں بیٹوں کی شھادت کی اطلاع ملی تو اپ نے آہ و فغاں نالہ و شیون نہیں کیا بلکہ اپ نے بشیر سے امام حسین علیہ السلام کی سلامتی کے سلسلہ میں پوچھا اور جب اپنے امام وقت کی شھادت کی خبر سنی تو مضطرب و بے چین ہوئیں ، یہ چیز اپ کی امام وقت کی شناخت کی نشانی اور دلیل ہے ۔ [1]

۴: تواضع

حضرت ام البنین علیہا السلام کی ایک اور اہم خاصیت، ان کا متواضع اور منکسر المزاج ہونا ہے کہ جو اج ہماری زندگی میں بہت زیادہ مفید اور ہمارے لئے عظیم درس ہے جیسا کہ امام علی علیہ ‌السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ «التّواضُعُ سُلَّمُ الشَّرَفِ ؛ تواضع اور انکساری شرافت اور بزرگی کی سیڑھی ہے ۔ [2]

حضرت ام البنین علیہا السلام کا تواضح اور ان کی انکساری لائق تحسین ہے ، « آپ جب مولائے کائنات علی علیہ السلام کے گھر میں رخصت ہوکر تشریف لائیں تو خود کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے جانشین کے طور پر نہیں بلکہ اپ کے بچوں کی خادمہ کے طور پر پیش کیا ، بچوں سے ادب و احترام کے ساتھ پیش آتی تھیں اور ان کا نہایت احترام کرتی تھیں ، حضرت ابوالفضل العباس علیہ  السلام نے بھی اسی معدن و سرچشمہ ادب سے ادب و احترام سیکھا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کو ہمیشہ سر و سردار [یا سیدی یا اباعبدالله] کے خطاب سے یاد کیا ۔» [3]

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ «مَن تَواضَعَ قَلبُهُ لِلَّهِ لَم یَسأم بَدنهَ مِن طاعَةِ اللهِ؛ جس کا دل خدا کے مقابل متواضع اور منسکر ہوگا اس جسم ہرگز اطاعت الھی میں نہ تھکے گا ۔ »[4]

_____________________
حوالہ:
3. تنقیح المقال، ج 2، ص128.
1. غرر الحکم، عبد الواحد بن محمد آمدی، ج ۱، ص ۵۷، انتشارات دار الکتاب الاسلامی، قم، 1410ه ق.

2. مادر فضيلت ها: زندگينامه ام البنين عليهاالسلام، علي آقاجاني قناد، ص24 و 25، انتشارات مركز پژوهش هاي اسلامي صدا و سيما، قم، ۱۳۸۵.
4. بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار علیهم‌السلام، محمد باقر مجلسی، ج 75، ص 90، انتشارات دار احیاء التراث العربی، بیروت.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
2 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 56