شہوت کا سرانجام

Tue, 05/14/2024 - 06:12

ہوس انسان کو اندھا اور بہرہ بنا دیتی ہے اور اسکی عاقبت تباہ کردیتی ہے ۔

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: «إنَّكَ إن أطَعتَ هَواكَ أصَمَّكَ و أعماكَ ، و أفسَدَ مُنقَلَبَكَ و أرداكَ» ۔ (۱)

بلا شک اگر تم نے اپنے ہوائے نفس کی پیروی کی تو وہ تمہیں اندھا اور بہرا بنا دے گی اور تمھاری عاقبت اور آخرت تباہ و برباد ہوجائے گی ۔

امام علی علیہ السلام نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : و مَن عَشِقَ شَيئا أعشى (أعمى) بَصَرَهُ و أمرَضَ قَلبَهُ ، فَهُوَ يَنظُرُ بِعَينٍ غَيرِ صَحيحَةٍ ، و يَسمَعُ بِاُذُنٍ غَيرِ سَميعَةٍ ، قَد خَرَقَتِ الشَّهَواتُ عَقلَهُ ، و أماتَتِ الدّنيا قَلبَهُ  ۔ (۲)

اگر کوئی کسی چیز کا عاشق ہوجائے تو وہ اسے اندھا اور اس کے دل کو بیمار بنادے گی ، ایسا انسان اندھی انکھ سے دیکھتا ہے ، بہرے کان سے سنتا ہے ، ہوس اس کی عقل چھین لیتی ہے اور دنیا اس کے دل کو مردہ کردیتی ہے ۔

مختصر شرح:

شھوت کبھی اس قدر شدید ہوتی ہے کہ مکمل طور سے انسان کا دین برباد کردیتی ہے جیسا کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے ایک مقام پر فرمایا : «طاعة الشهوة تفسد الدین ؛ شہوت کی پیروی انسان کو بے دین بنادیتی ہے» ، (۳) اسی بنیاد پر مولائے متقیان نے فرمایا : «اهجروا الشهوات فانها تقودکم الی رکوب الذنوب و التهجم علی السیئات ؛ اپنی سرکش شہوتوں سے پرہیز کرو کہ تمہیں مختلف گناہوں اور برائیوں کی جانب کھنیچ لے جائے گی» ، (۴) انسان کے نزدیک جو اچھائی اور برائی کسوٹی ہے وہ عقل ہے اور ہوائے نفس و ہوس سب سے پہلا کام جو کرتی ہے وہ انسان کی عقل زائل کردیتی ہے جیسا کہ امام علیہ السلام نے فرمایا : «طاعة الهوی تفسد العقل ؛ ہوس پرستی انسان کی عقل کو ناکارہ بنادیتی ہے» ، (۵) امام علیہ السلام نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : «الجاهل عبد شهوته ؛ جاہل اور نادان انسان اپنی شہوت کا غلام ہے» ، (۶)، یعنی جاہل انسان غلام کی طرح ذلیل و خوار ہے کہ اپنی شہوت کے مقابل کچھ بھی نہیں کرسکتا اور بے بس ہے ، ایسے انسان کے لئے امام علیہ السلام نے فرمایا : «عبد الشهوة اسیر لا ینفک اسره ؛ شہوت اور ہوس کا غلام ، ایسا اسیر ہے جو ہرگز ازادی کی جھلک نہیں دیکھ سکتا» ، (۷) اور اپ (ع) نے انسانوں کو ہوس اور شہوت کے سرانجام سے بھی باخبر کیا کہ اس کا سرانجام رسوائی اور بے ابروئی کے سوا کچھ بھی نہیں ، اپ (ع) نے فرمایا : «حلاوة الشهوة ینغصها عار الفضیحة ؛ شہوت اور ہوس کی مٹھاس بے ابروئی اور رسوائی کے زہر سے تلخیوں میں بدل جائے گی» ۔ (۸) کیوں تمام برائیوں اور بدی کی بنیاد انسان کی شہوت ہے جیسا کہ مولا نے فرمایا: «سبب الشر غلبة الشهوة ؛ شر اور مصیبتوں کی علت اور وجہ انسان پر ہوس اور شہوت کا غلبہ ہے» (۹)

اس حدیث شریف میں لفظ «الشر» پر الف و لام ، الف و لام جنس ہے اور مطلق ہے ، معنائے عموم کو بیان کرتا ہے ، یعنی یہ کہ «شہوت پرستی اور ہوس» تمام برائیوں اور بدبختیوں کی بنیاد و جڑ ہے ۔

ہوس اور شہوت انسان کے لئے سعادت اور اس کی کامیابی کے راستے بند کردیتے ہیں اور اسے گمراہی و ضلالت کے اندھیرے میں باقی رکھتے ہیں ، اسی وجہ سے امام علی علیہ السلام نے فرمایا: «کیف یستطیع الهدی من یغلبها الهوی ؛ انسان کس طرح ہدایت پاسکتا ہے جبکہ اس کے اوپر ہوس اور شہوت غالب ہے» (۱۰) ، فقط یہی نہیں بلکہ شہوت اور ہوس انسان کی شخصیت کو کمزور و ضعیف بنا دیتی ہے جیسا کہ امام علیہ السلام نے فرمایا : «من زادت شهوته قلت مروته ؛ جس کے اوپر شہوت کا غلبہ ہوجائے اس کی شخصیت کمزور و ضعیف ہوجاتی ہے» (۱۱) ، اور جب انسان شہوت پرست ہوگیا تو پھر بہشت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکتا امام علیہ السلام نے اسی بات کہ خبر دیتے ہوئے فرمایا : «من اشتاق الی الجنة سلا عن الشهوات ؛ جو بہشت کا مشتاق ہے اسے شہوت سے دوری اپنانی چاہئے» (۱۲) ، امام علیہ السلام نے علم و اگاہی اس ناسور اور بڑی بیماری سے نجات کا راستہ بتایا اور فرمایا : «لا تسکن الحکمة قلبا مع شهوة ؛ جس دل میں شہوت ہو اس دل میں علم و حکمت نہیں ہوسکتی » (۱۳) یعنی دونوں متضاد چیزیں ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱: غررالحکم،ح ۳۸۰۷۔

۲: نهج البلاغة ، خطبہ ۱۰۹ ۔

۳: شرح غررالحکم، ح ۵۹۸۵ ۔

۴: غررالحكم ، ح ۲۵۰۵ ۔

۵: شرح غررالحکم، ح ۵۹۸۳ ۔

۶: غررالحكم ، ح ۲۲۱۸ ۔  

۷: غررالحكم ، ح ۶۳۰۰ ۔

۸: غررالحكم ، ح ۴۸۸۵.

۹: غررالحكم ،ح ۵۵۳۳ ۔

۱۰: غررالحكم ح ۷۰۰۱ ۔  

۱۱: غررالحكم ، ح ۲۸ ۔

۱۲: نہج البلاغة ، ح ۳۱ ۔

۱۳: غررالحكم ، ح۱۰۹۱۵ ۔  

 

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
7 + 8 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 74