کربلا میں پیاس کی شدت (۳)

Sat, 08/19/2023 - 03:33

و۔ امام جعفر صادق علیہ السلام ایک روایت میں کرام بن عمرہ سے مخاطب ہوکر ارشاد فرماتے ہیں: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ(علیه السلام) لِكَرَّامٍ إِذَا أَرَدْتَ أَنْتَ قَبْرَ الْحُسَيْنِ(ع) فَزُرْهُ وَ أَنْتَ كَئِيبٌ حَزِينٌ شَعِثٌ مُغْبَرٌّ فَإِنَّ الْحُسَيْنَ(علیه السلام) قُتِلَ وَ هُوَ كَئِيبٌ حَزِينٌ شَعِثٌ مُغْبَرٌّ جَائِعٌ عَطْشَانُ ؛ جب بھی تم امام  حسین علیہ السلام کی قبر کا قصد کرو تو اس حال میں ان کی زیارت کرنا کہ تم رنجیدہ ، غمگین ، پریشان اور کبیدہ خاطر ہو کیونکہ امام حسین علیہ السلام اس حال میں شہید ہوئے کہ آپ رنجیدہ ، غمگین ، پریشان ، کبیدہ خاطر اور بھوکے پیاسے تھے۔ (۱)

اسی طرح آپ ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ فِي كَرَامَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ فِي شَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ ص فَلْيَكُنْ لِلْحُسَيْنِ زَائِراً يَنَالُ مِنَ اللَّهِ الْفَضْلَ وَ الْكَرَامَةَ (أَفْضَلَ الْكَرَامَةِ) وَ حُسْنَ الثَّوَابِ وَ لَا يَسْأَلُهُ عَنْ ذَنْبٍ عَمِلَهُ فِي حَيَاةِ الدُّنْيَا وَ لَوْ كَانَتْ ذُنُوبُهُ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ وَ جِبَالِ تِهَامَةَ وَ زَبَدِ الْبَحْرِ إِنَّ الْحُسَيْنَ ع قُتِلَ مَظْلُوماً مُضْطَهَداً نَفْسُهُ عَطْشَاناً هُوَ وَ أَهْلُ بَيْتِهِ وَ أَصْحَابُهُ ؛ جو یہ چاہتا ہے کہ روز قیامت ان بندوں میں قرار پائے جو اللہ کے نزدیک اہل کرامت ہیں اسی طرح  پیغمبر کی شفاعت اسے نصیب ہو تو اسے چاہئے کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت انجام دے ، اسے فضل کرامت اور حسن ثواب حاصل ہوگا اور وہ گناہ جو اس نے دنیا میں انجام دئے ہیں ان کے بارے میں مورد مؤاخذہ قرار نہیں پائے اگرچہ اس کے گناہ ریت کے ذرات ، مکہ کے پہاڑوں اور سمندر کی جھاگ کی مانند ہوں کیونکہ امام حسین علیہ السلام مظلومانہ شہید ہوئے اور آپ پر اس طرح ظلم ہوا کہ آپ ، آپ کے اہلبیت اور اصحاب پیاسے اور تشنہ لب تھے ۔ (۲)

ز۔ جناب دعبل خزاعی نے جب امام رضا علیہ السلام کے سامنے ان مشہور ابیات کو پڑھا جس میں امام حسین کی شہادت اور تشنگی کا ذکر ہے تو امام نے شدید گریہ کے ذریعہ جناب دعبل کے اشعار کی تائید کی ، جناب دعبل کے اشعار یہ تھے،

أَفاطِمُ لَوْ خِلْتِ الْحُسَيْنَ مُجَدَّلا

وَ قَدْ ماتَ عَطْشاناً بِشَطِّ فُراتِ (۳)

اے کاش آپ اپنے حسین کے کربلا مین ہوتیں بتحقیق آپ کا فرزند فرات کے کنارے تشنہ لب شہید کیا گیا۔

ح۔ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف بھی اپنے جد پر نوحہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: فَمَنَعُوكَ المَاءَ وَ وُرودَهُ ، یعنی ان دشمنوں سے آپ سے پانی دریغ کیا اور آپ کو پانی پر وارد ہونے سے روکا ۔ (۴)

اس کے علاوہ سیکڑوں واقعات ہیں جو کربلا کے شہیدوں کی تشنگی اور پیاس پر دلالت کرتے ہیں مثلا جناب حر کا بچوں کی العطش کی آواز سن کر بے چین ہونا اور عمر سعد کی فوج کی سرداری چھوڑ کر امام کی خدمت میں آنا اور شہادت ، جناب ابوالفضل العباس علیہ السلام کا سبیل آب کے لئے جانا اور اس راہ میں آپ کی شہادت ، (۵) جناب علی اکبر علیہ السلام کا جہاد سے واپس آنا اور اپنے پدر سے یہ کہتے ہوئے پانی کا تقاضا العطش قد قتلنی ، بابا پیاس مارے ڈال رہی ہے ، (۶) یا جناب امام حسین علیہ السلام کا دشمنوں کے سامنے میدان میں جناب علی اصغر علیہ السلام کو لے جانا اور چھ ماہ کے بچے کے لئے پانی کا تقاضا کرنا وغیرہ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات

۱: نوری طبرسی، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، ج۱۰، ص۳۴۹. ابن قولویه، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، ص۱۴۲۔

۲:  ابن قولویه، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، ص۱۶۶. مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، ج۱۰۱، ص۲۷۔

۳: مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، ج۴۵، ص۲۵۷۔

۴: مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، ج۱۰۱، ص۳۲۱۔

۵: إِذا غَدَوْتَ إِلَى الْجِهادِ فَاطْلُبْ لِهؤُلاءِ الاْطْفالِ قَليلا مِنَ الْماءِ ، فَلَمّا أَرادَ أَنْ يَشْرَبَ غُرْفَةً مِنَ الْماءِ ذَكَرَ عَطَشَ الْحُسَيْنِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَرَضَّ الْماءَ وَمَلاَ الْقِرْبَةَ ، مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، ج۴۵، ص ۴۱۔

۶: يا أبَهْ! ألْعَطَشُ قَدْ قَتَلَني، وَ ثِقْلُ الْحَديدِ أَجْهَدَني، فَهَلْ إِلى شَرْبَة مِنْ ماء سَبِيلٌ أَتَقَوّى بِها عَلَى الاْعْداءِ ، مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، ج۴۵، ص ۴۳۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 2 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 20