سعادت و کامیابی کے بعض اسباب

Sun, 05/21/2023 - 08:01

۱: توفیق اور خدا کی عنایت

امام ہشتم علی ابن موسی الرضا علیہ السلام نے انسان کی سعادت اور کامیابی کے سلسلہ میں فرمایا : «لَيسَ كُلُّ مَن يُحِبُّ أن يَصنَعَ المَعروفَ إلى الناسِ يَصنَعُهُ و لا كُلُّ مَن رَغِبَ فيهِ يَقدِرُ علَيهِ و لا كُلُّ مَن يَقدِرُ علَيهِ يُؤذَنُ لَهُ فيهِ، فإذا مَنَّ اللّه على العَبدِ، جَمَعَ لَهُ الرَّغبَةَ في المَعروفِ و القُدرَةَ و الإذنَ، فهُناكَ تَجبُ السَّعادَةُ»؛[1] « ایسا نہیں ہے کہ کوئی لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا چاہے اور وہ کرپائے ، کوئی نیکی کی رغبت رکھے اور اسے انجام دے سکے ، کوئی اس کی طاقت رکھتا ہو اور اس کی توفیق حاصل کرلے بلکہ جب بھی خداوند متعال کسی بندے پر عنایت کرتا ہے تو اسے « نیکی کرنے کی رغبت »، « اسے انجام دینے کی طاقت » اور « اجازت و توفیق » بھی عطا کرتا ہے کہ ان حالات میں سعادت و نیکی اس بندے مقدر ہوتی ہے » ۔  

لہذا خداوند متعال اپنی خاص عنایتوں کے وسیلے اچھائیوں کی رغبت ، اس کے انجام دینے کی قدرت اور موقع فراہم کرے تاکہ انسان اسے انجام دینے کی جانب قدم بڑھا سکے ، البتہ لازم ہے کہ انسان بھی اپنے اندر اس توفیق کے حاصل ہونے کا زمینہ فراہم کرے ۔

اگر چہ حضرت فاطمہ معصومہ قم سلام اللہ علیہا کی زیارت انسان کی کامیابی و سعادت میں اثر انداز ہے لیکن سعادت بغیر عمل اور اطاعت کے ناممکن ہے ، اسی بنیاد پر مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : «...أَنَّ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَ اسْتَحَقَّ السَّعَادَةَ بِرِضْوَانِهِ»؛[2] « یقینا جس نے اپ کی (امیرالمؤمنین علیہ ‌السلام) کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت اور اس کی رضا اور خوشنودی کے وسیلے سعادت کا حقدار ہے » ۔

۲: خودسازی اور تقوائے الھی

چیزوں میں سے ایک اہم ترین چیز جو انسان کو دنیا اور آخرت کی سعادت کی طرف لے جاتی ہے وہ برے صفات سے دوری اور نفس کو اچھائیوں سے مزین کرنا ہے کہ اس سلسلہ میں امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے دو روایتیں نقل ہوئی ہیں جس کا ہم اس مقام پر تذکرہ کررہے ہیں :

یک: برے صفات سے دوری: «خُلُوُّ الصَّدْرِ مِنَ‏ الْغِلِّ وَ الْحَسَدِ مِنْ سَعَادَةِ الْعَبْد»؛[3] « دل کا کینہ اور حسد سے خالی رہنا بندے کی سعادت ہے» ۔

دو: نفس کو اچھائیوں سے مزین کرنا: «سَعادَةُ المَرءِ القَناعَةُ و الرِّضا»؛[4] «انسان کی بھلائی قناعت اور راضی رہنے میں ہے» ۔

جاری ہے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[حوالہ:

[1]. الفقه المنسوب إلى الإمام الرضا عليه‌السلام، موسسه آل‌البیت، 1406ق، چاپ اول، ص: 374.

[2]. التفسیرالمنسوب الی الإمام الحسن العسكري عليه‌السلام، مدرسه الامام المهدی علیه السلام، 1409ق، چاپ اول، ص94.

[3]. آمدی، عبدالواحد، غررالحکم، دارالکتاب الاسلامیه، 1410ق، چاپ دوم، ص364.

[4]. آمدی، عبدالواحد، غررالحکم، دارالکتاب الاسلامیه، 1410ق، چاپ دوم، ص364.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
5 + 6 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 43