لڑکے یا لڑکیاں کب بالغ ہوتی ہیں

Tue, 01/17/2023 - 08:34

چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : حَدُّ بُلُوغِ اَلْمَرْأَةِ تِسْعُ سِنِينَ ، لڑکیوں کے بالغ ہونے کی عمر ۹ سال ہے ۔ (۱)

نیز انحضرت (ع) نے ایک دوسرے مقام پر یوں فرمایا : إِذَا بَلَغَ اَلْغُلاَمُ ثَلاَثَ عَشْرَةَ سَنَةً كُتِبَتْ لَهُ اَلْحَسَنَةُ وَ كُتِبَتْ عَلَيْهِ اَلسَّيِّئَةُ وَ عُوقِبَ وَ إِذَا بَلَغَتِ اَلْجَارِيَةُ تِسْعَ سِنِينَ فَكَذَلِكَ وَ ذَلِكَ أَنَّهَا تَحِيضُ لِتِسْعِ سِنِينَ ۔ (۲)   

جب لڑکا ۱۳ سال کا ہوجائے تو اس کی اچھائیاں اور برائیاں لکھی جاتی ہیں اور برائیوں کے سلسلہ میں اسے جوابدہ ہونا ہوگا نیز جب لڑکیاں ۹ سال کی ہوجائیں تو ان کے سلسلہ میں بھی یہی حکم ہے کیوں کہ وہ ۹ سال کی عمر میں حیض دیکھ لیتی ہیں ۔

اپ (ع) نے ایک اور مقام پر فرمایا : إِذَا بَلَغَتِ اَلْجَارِيَةُ تِسْعَ سِنِينَ دُفِعَ إِلَيْهَا مَالُهَا وَ جَازَ أَمْرُهَا فِي مَالِهَا وَ أُقِيمَتِ اَلْحُدُودُ اَلتَّامَّةُ لَهَا وَ عَلَيْهَا (۳)

جب لڑکی ۹ سال کی ہوجائے تو اس کا سرمایہ اسے لوٹا دیا جائے گا اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مال کا استعمال کرے نیز اس کے حق میں یا اس کے خلاف تمام حدود اجراء ہوں گے ۔

پانچویں امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا : الجَارِيَةُ إذا بَلَغتْ تِسعَ سِنينَ ذَهَبَ عَنها اليُتمُ ، و زُوِّجَتْ و اُقِيمَتْ عَليها الحُدودُ التَّامَّةُ علَيها وَ لَها…. (۴)

جب لڑکی ۹ سال کی جائے تو اس کے بچپنے کی مدت ختم ہوجاتی ہے اور وہ شادی کے لائق ہے نیز اس کے حق میں یا اس کے خلاف تمام عام حدود اجراء کئے جائیں گے ۔

راوی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا : « قُلْتُ الْجَارِيَةُ ابْنَةُ كَمْ لَا تُسْتَصْبَى- أَ بِنْتُ سِتٍّ أَوْ سَبْعٍ فَقَالَ لَا- ابْنَةُ تِسْعٍ لَا تُسْتَصْبَى- وَ أَجْمَعُوا كُلُّهُمْ عَلَى أَنَّ ابْنَةَ تِسْعٍ لَا تُسْتَصْبَى- إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي عَقْلِهَا ضَعْفٌ- وَ إِلَّا فَإِذَا بَلَغَتْ تِسْعاً فَقَدْ بَلَغَتْ»  (2)

لڑکیاں کس عمر تک بچہ شمار کی جاتی ہیں ؟ ایا ۶ سال کی عمر تک یا ۷ سال تک ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا : ۹ سال کی لڑکی بچہ نہیں ہے ۔

دیگر تمام روایات کے مطابق ۹ سال کی لڑکی صغیرہ نہیں ہے بلکہ بالغ ہے اور دین و شریعت کے لحاظ سے ۹ سال کی لڑکی کی شادی کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں تمام علمائے اور فقہاء اسلام کا اجماع موجود ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱: شیخ صدوق ، الخصال ، ج ۲ ، ص ۴۲۱ ۔

۲: کلینی ، اصول کافی ، ج ۷ ، ص ۶۸ ۔

۳: شیخ صدوق ، من لا يحضره الفقيه ، ج ۴ ،  ص ۲۲۱ ۔

۴: کلینی ، اصول كافی ،  ج ۷ ، ص ۱۹۸ ، ح ۲ ۔

۵:  کلینی ، اصول كافی ، ج ۵ ،  ص ۴۶۳ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
5 + 2 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 43