رسولوں کی داستان؛ جناب یعقوب (۲)

Sun, 05/08/2022 - 07:34

ہم نے اپنی گذشتہ تحریر میں اس بات کی جانب اشارہ کیا تھا کہ خداوند متعال کے حکم اور ایات قران کریم کے واضح اور روشن پیغام کے تحت انسان، دو بہنوں سے ایک ساتھ عقد [شادی] نہیں کرسکتا کہ جس طرح دو کنیزوں سے کہ جو آپس میں سگی بہنیں ہیں مباشرت نہیں کرسکتا ۔

ایت کریمہ میں «إِلَّا ما قَدْ سَلَفَ» ذکر ہوا ہے یعنی کہ تم لوگوں نے جو کچھ ماضی میں انجام دیا ہے خداوند رحمن و رحیم اس بات پر تمھارا مواخذہ نہیں کرے گا ، لہذا ایت کریمہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ تم لوگوں نے حرمت کا حکم آنے سے پہلے جو کچھ انجام دیا ہے یعنی دو بہنوں سے ایک وقت میں عقد [شادی] کیا ہے اسی پر باقی رہو بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس حکم کے انے سے پہلے اس طرح کی جو شادیاں اور عقد ہوئے ہیں جیسا کہ جناب یعقوب پیغمبر(س) نے ایک ہی وقت میں دو سگی بہنوں سے عقد کیا تھا اس پر خداوند متعال تمھارا مواخذہ و محاکمہ نہیں کرے گا ۔ (۱)

مرجع تقلید عظیم الشان امام خمینی (رہ) معتقد ہیں کہ یہ حرمت ماں اور بیٹی سے شادی کی حرمت جیسی ہے جیسا کہ قران کریم میں ایا ہے :

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ أُمَّهَاتُکُمْ وَ بَنَاتُکُمْ وَ أَخَوَاتُکُمْ وَ عَمَّاتُکُمْ وَ خَالاَتُکُمْ وَ بَنَاتُ الْأَخِ وَ بَنَاتُ الْأُخْتِ وَ أُمَّهَاتُکُمُ اللاَّتِی أَرْضَعْنَکُمْ وَ أَخَوَاتُکُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَ أُمَّهَاتُ نِسَائِکُمْ وَ رَبَائِبُکُمُ اللاَّتِی فِی حُجُورِکُمْ مِنْ نِسَائِکُمُ اللاَّتِی دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ وَ حَلاَئِلُ أَبْنَائِکُمُ الَّذِینَ مِنْ أَصْلاَبِکُمْ وَ أَنْ تَجْمَعُوا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ ؛ تمہارے اوپر تمہاری مائیں ، بیٹیاں ، بہنیں ، پھوپھیاں ، خالائیں ، بھتیجیاں ، بھانجیاں ، وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے ، تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں ، تمہاری بیویوں کی مائیں ، تمہاری پروردہ عورتیں جو تمہاری آغوش میں ہیں اور ان عورتوں کی اولاد ، جن سے تم نے دخول کیا ہے ہاں اگر دخول نہیں کیا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے اور تمہارے فرزندوں کی بیویاں جو فرزند تمہارے صلب سے ہیں اور دو بہنوں کا ایک ساتھ جمع کرنا سب حرام کردیا گیا ہے (۲)

اپ (رہ) فرماتے ہیں کہ دو بہنوں کو ایک ساتھ عقد میں لانا مناسب نہیں ہے چاہے وہ سگی بہنیں ہوں چاہے دودھ پلائی ، چاہے ایک ہی شھر میں رہتی ہوں یا الگ الگ شھروں میں ، اس حوالہ سے دوسرا عقد باطل ہے پہلا نہیں چاہے پہلی کے ساتھ مباشرت کیا ہو چاہے نہ کیا ہو اور اگر دونوں کا عقد ایک ساتھ اور ایک وقت میں ہوا ہو تو دونوں عقد باطل ہیں ۔ (۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:

۱: طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج ‏5، ص 96، تهران، پبلیشر ناصر خسرو، طبع سوم، 1372 ش ۔
۲: قران کریم ، سورہ نساء ، ایت ۲۳ ۔
۳: امام خمینی ، تحریرالوسیلہ ، ج ۲ ص  ۲۸۰ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 1 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 55