گھر ذکر اور ایات الہی کی تلاوت کا مقام

Sun, 05/08/2022 - 06:11
گھر و گھرانہ

قران نے کریم نے گھر کو ذکر اور ایات الہی کی تلاوت کا مقام بتاتے ہوئے فرمایا کہ « وَاذْکرْنَ مَا یتْلَىٰ فِی بُیوتِکنَّ مِنْ آیاتِ اللَّهِ وَالْحِکمَةِ » (۱) ؛ اور ازواج پیغمبر تمہارے گھروں میں آیات الٰہی اور حکمت کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے ۔

مذکورہ ایت کریمہ میں ازواج پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم سے خطاب ہے اور اس ایت کریمہ میں موجود پیغامات وہ قیمتی پیغامات ہیں جن پر عمل سے انسانی حیات اور زندگی سنور سکتی ہے اور گلستان بن سکتی ہے ، مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی (ص) کا گھرانہ اور کنبہ ، عالم انسانیت خصوصا مسلمانوں کے لئے ائڈیل اور نمونہ عمل ہے اسی بنیاد پر قران کریم کی ایات میں خداوند متعال کا حکم ہوا کہ وہ یعنی ازواج پیغمبر(ص) دوسروں سے زیادہ احکام الھی کی اطاعت کا خیال رکھیں ، ہر کسی کا یہ ذاتی اور دینی وظیفہ ہے کہ وہ اپنی اور اپنے گھرانے کی عزت و آبرو اور مقام و منزلت کے حفظ و بقا میں کوشاں رہے ۔

گھر کا پرسکون اور آرام دہ ماحول اس مکان کے محترم اور مکرم ہونے کی نشانی ہے اور اگر وہ عبادت و ذکر الھی کا مرکز بھی بن جائے تو پھر معبود حقیقی کی نگاہوں میں با عظمت و برتر ہوجائے گا ۔ جیسا کہ قران کریم نے رسول اسلام (ص) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا « فِی بُیوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَیذْکرَ فِیهَا اسْمُهُ یسَبِّحُ لَهُ فِیهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ » (۲) ؛ [یہ چراغ] ان گھروں میں ہیں جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکرکیا جائے کہ ان گھروں میں صبح و شام اس کی تسبیح کرنے والے ہیں ۔ سچی اور حقیقی عظمت و رفعت و بلندی خداوند متعال کی ذات سے مخصوص ہے لہذا جو گھر اس کی عبادت گاہ [مسجد] اور محل تسبیح و تحلیل ہو وہ بھی با عظمت و رفعت ہوگا ۔

صاحب تفسیر المیزان مرحوم علامہ طباطبائی اس ایت کریمہ کی ذیل میں فرماتے ہیں کہ اگر گھر ہر قسم کی برائی ، نفسانی خواہشات ، ہوا و ہوس سے دور اور ذکر و عبادت خدا سے مزین رہے تو رفعت و بلندی سے ہمکنار ہوگا ، ایسا گھر ایک بے جان اور بے روح چھار دیواری سے نکل کر معنویت میں غرق اور الھی رنگ و بو لے لے گا کہ جس کا کھلا مصداق خانہ خدا یعنی کعبہ ہے ۔ (۳)

عالم ملکوت سے رشتہ جوڑنے کا مقام

قران کریم نے گھر [بیت] کی ایک اور خصوصیت بتاتے ہو کہا کہ « فَاذَا دَخَلْتُم بُیُوتَاً فَسَلِّمُوا عَلَی أنْفُسِکُم تَحِیَّةً مِن عِندِاللهِ مُبارَکَةً طَیِّبَةً » (۴) ؛ بس جب گھروں میں داخل ہو تو کم از کم اپنے ہی اوپر سلام کرلو کہ یہ پروردگار کی طرف سے نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے ۔

اس ایت کریمہ میں خود پر سلام کرنے سے مراد اہل خانہ کو سلام کرنا ہے البتہ اگر اس مقام پر قران کریم نے یوں نہیں کہا کہ اہل خانہ کو سلام کرو تو اس کی وجہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی پیش کرنا ہے چونکہ ہم سبھی انسان ہیں اور ایک مرد و زن یعنی جناب ادم و ہوا سلام اللہ علیھما کہ اولاد ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
۱: قران کریم ، سورہ احزاب ، ایت ۳۴ ۔
۲: قران کریم ، سورہ نور ، ایت ۳۶ ۔
۳: علامہ طباطبائی ، محمد حسین ، تفسیرالمیزان، ج ۱۵ ، ص ۱۷۸– ۱۷۹ ۔
۴: قران کریم ، سورہ نور ، ایت ۶۱ ۔  

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
3 + 5 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 59