ایمان، سرمایہ یا بوجھ؟

Thu, 05/05/2022 - 19:18

انسانوں کی بدترین حالت یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز پر ایمان نہ رکھتےہوں  اور کسی بھی حقیقت کے سامنے تسلیم نہ ہوں، پریشاں خیالی اور فاسد خیالات و احساسات کا شکار ہوں، اور  پوری دنیا  کو اپنے خیالات و احساسات کی طرح   فاسد،غیر منظم،الجھن کا شکارفرض کرتے ہوں۔

ایمان، سرمایہ یا بوجھ؟

انسان  کو انسان بنانے میں ایمان کا کردار بہت ہی اہم ہےاس لحاظ سے کہ ایمان انسان کی حیوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھتا ہےاور انسان کو ایک فطری انسان سے معاشرتی آدمی بنا دیتاہے۔([1])

﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ﴾([2])،اسکےمعنی یہ ہیں کہ اگر انسان ایمان اور تقویٰ کی راہ پر گامزن ہو ، جو نظام خلقت کے ساتھ ہم آہنگی کا راستہ ہے تو گویا انسان اور فطرت کے مابین ایک قسم کی مفاہمت قائم ہوجاتی ہے۔

لیکن جب انسان سرکشی اور بغاوت کا راہی بن جاتا ہے ، تو وہ جسم کے ایک ایسے حصے کی طرح ہوجاتا ہے جو اپنے راستے سے ہٹ گیا ہو اور پھر جسم کے دیگر اعضاء  آہستہ آہستہ اسے مسترد کرتے ہوئے اپنے سے علاحدہ کردیتے ہیں،یہ معاملہ اس بات سے جدا ہے کہ ہم یہ کہیں کہ  خدا آسمانوں کی بلندیوں سے آتاہے اور معاملات میں مداخلت کرتا ہے  اورپھر واپس لوٹ جاتا ہے۔([3])

بلاشبہ ، انسانی زندگی کے ایک اہم رکن میں سےیہ ہے کہ انسان کسی چیز پر ایمان رکھتا ہو اور کسی اصول پر انحصار کرتا ہو ، کسی چیز کو حقیقت مانتا ہو اور اس کا تابع ہو۔

انسانوں کی بدترین حالت یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز پر ایمان نہ رکھتےہوں  اور کسی بھی حقیقت کے سامنے تسلیم نہ ہوں، پریشاں خیالی اور فاسد خیالات و احساسات کا شکار ہوں، اور  پوری دنیا  کو اپنے خیالات و احساسات کی طرح   فاسد،غیر منظم،الجھن کا شکارفرض کرتے ہوں۔([4])

ایمان، کائنات کی  ایجاد کرنے والے پر انحصار و بھروسہ  اوراس کا سہارا لینے کا ذریعہ ہے، دوسرے لفظوں میں ، ایمان خدا کے ساتھ ایک بندے کے لگاؤ کا نام ​​ہے، تو خود ایمان انسان اور کائنات کی ابتداء کرنے والے کے مابین ایک قسم کے ربط کا نام ہے،اس بنیاد پر ایمان ، انسان اور کائنات کی ابتدا ء کرنے والےکے مابین باہمی تعلقات کے قیام کا وسیلہ اور ذریعہ ہے ،اور کائنات کے ساتھ بھی ایمان کا ایک قسم کا ربط و اتصال ہے جو اس سے پہلے موجود نہیں تھا۔([5])

مذہبی قوت ہی بس ایسی ہے کہ جو نظریات کو تقدّس   دینے اور پوری طاقت سے انسان پر اس کی حکمرانی مسلط کرنے کے قابل ہے۔([6])

مذہبی اور غیر مذہبی نظریات میں فرق یہ ہے کہ جہاں ایک مذہبی عقیدہ وجود میں آتا ہے اور اس نظریہ کو تقویت دیتا ہے   تو ایسی صورت میں اس نظریہ کے اجرا ءمیں جو   قربانیاں دی جاتی ہیں وہ پورے سکون و اطمینان اور مکمل خلوص کے ساتھ   اور فطری طور پر دی جاتی ہیں۔([7])

ایمان روشنائی ، بصیرت اور روشن خیالی و بینائی کا نام ہے ہے ، یہ انسان کے طرز نگاہ کو بدلتا ہے یعنی اسے وسعت پذیر بنا دیتا ہے ، یہ دنیا کو زیادہ جہتوں کے ساتھ ظاہر کرتا ہے ، یہ ایک نئی  دنیا کے دروزے وَا کرتا ہے ، یہ  مزیددوسرے قوانین کی پیش کش کرتا ہے۔([8])

ایمان اور مذہبی عقیدے اور کیا اثر ہوسکتا ہے؟ ایک شخص ممکن ہے کہ  سچا مؤمن اور معتقد ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ملحد اور بے ایمان ہو ، اور ملحدیت میں زندگی بسر کرتاہو،اس مقام پر اس بات کے بحث ومباحثہ کا وقت ہے کہ کیا مذہبی ایمان و عقیدہ انسان کے لئے ایک اثاثہ اور سرمایہ ہے جسے اگر وہ کھو دیتا ہے تو ، زندگی کے اثاثوں میں سے ایک کو کھو دیتا ہے ؟ یا یہ ایک بوجھ ہے ، اگر وہ اسے کھو بھی دیتا ہے تو اس نے زندگی میں کچھ نہیں کھویا ہے ، بلکہ اس نے اپنے کندھوں سے ایک بوجھ  اتار پھینکا ہے؟([9])

اخلاقیات ، معاشرتی انصاف ، معاشرتی تحفظ ، انسانیت ، یہ وہ تمام اثاثے ہیں کہ جن کی حفاظت کے لیے ایک اور اثاثہ درکار ہے کہ جس کا نام ایمان ہے۔([10])

ہماری صدی کے ایک عظیم مفکر اور عالمی شہرت یافتہ مصنف ٹولسٹائی  کا بیان ہے کہ: «ایمان وہی ہے جس کے ساتھ ساتھ انسان زندگی بسر کرتا ہے» اس کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایمان زندگی کا بہترین اثاثہ اور سرمایہ ہے؛ اگر انسان اسے کھو دیتا ہے تو ، اس نے زندگی کا سب سے اہم اثاثہ کھو دیا ہے۔([11])

قرآن مجید کا ارشاد ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ١* تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ﴾۔([12])ایمان والو کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے؟*اور وہ یہ ہے کہ اللہ  اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔

لہٰذا  ایمان وہ سرمایہ ہے جس میں کسی طرح کا کوئی گھاٹا نہیں اور جس میں فائدہ ہی فائدہ ہے اس کا حامل یقین کے جذبے سے سرشار اور توکل کے راکب پر سوار ہے اس لیے اس قیمتی سرمائے کی حفاظت نہایت ضروری ہے تاکہ کوئی راہزن اسے بوجھ بتا کر آپ سے اس قیمتی سرمائے کو چھیننے نہ پائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع
([1]) یاداشت ہائے شہيد مطہری، ج ۱،ص ۴۹۰۔
([2]) اعراف(۷): ۹۶۔
([3]) فلسفہ تاريخ (1 ـ 4 )،مجموعہ آثار شہید مطہری، ج15 ،ص177۔
[4] حکمتہا و اندرزها ( 1و 2 )،مجموعہ آثار شہید مطہری، ج22 ،ص94۔
([5]) یاداشتہائے شہيد مطہری، ج ۱،ص ۴۸۴۔
([6]) انسان و ايمان، مجموعہ آثار شہید مطہری، ج2 ،ص40۔
([7]) انسان و ايمان، مجموعہ آثار شہید مطہری، ج2 ،ص40۔
([8]) یاداشتہائے شہيد مطہری، ج ۱،ص ۴۷۵۔
([9]) فوائد و آثار ايمان (بيست گفتار)، مجموعہ آثار شہید مطہری، ج23 ،ص760۔
([10]) فوائد و آثار ايمان (بيست گفتار)، مجموعہ آثار شہید مطہری، ج23 ،ص7۶۵۔
([11]) فوائد و آثار ايمان (بيست گفتار)، مجموعہ آثار شہید مطہری، ج23 ،ص7۶۰۔
([12]) صف(۶۱):۱۰_۱۱۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
2 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 46