شیطانی حربے اور راہ مقابلہ (۳)

Thu, 03/28/2024 - 21:59

گذشتہ سے پیوستہ

قران کریم نے جناب ابراھیم و اسماعیل علیھما السلام کی داستان بیان کرتے ہوئے کہا کہ « فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْی قالَ یا بُنَی إِنِّی أَرى‏ فِی الْمَنامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ ما ذا تَرى‏ قالَ یا أَبَتِ افْعَلْ ما تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِی إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ ؛ پھر جب وہ فرزند ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں اب تم بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے » ۔ (۱)

چار: گناہوں کو ہلکا بتانا

شیطان ہر عمل اور اقدام سے پہلے اپنے مخاطبین کو بہت دقیق طریقہ سے پہچانتا ہے تاکہ ہر کسی کے ساتھ اس کی طبیعت اور فطرت کے مطابق عمل کرے کیوں کہ جن لوگوں کی گناہ انجام دینے کی عادت نہ ہو ان کے لئے گناہیں انجام دینا بہت ہی سخت اور دشوار عمل ہے ، گناہوں کو ہلکا بتانا اور ہلکا جلوہ دینا شیطان کا بہترین حربہ ہے ، بڑے بڑے گناہوں کو چھوٹا دیکھانا اس کے ارتکاب کے لئے انسان کو امادہ کرنا ہے ، برائیوں کو انسان کے سامنے اچھے اور خوبصورت پیرائے میں پیش کرنا ، اسے طولانی اور بڑی بڑی امیدیں بندھانا شیطان کا عمل ہے جیسا کہ قران کریم نے سورہ محمد (ص) میں فرمایا: « إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَىٰ لَهُمْ ؛ بے شک جو لوگ پیچھے کی طرف الٹے پھر گئے بعد اس کے کہ ان پر سیدھا راستہ ظاہر ہو چکا شیطان نے ان کے سامنے برے کامو ں کو بھلا کر دکھایا اور انہیں آرزو دلائی» ۔ (۲) اس ایت کریمہ میں جھوٹوں کی ظاھر سازی کو زھریلے سانپ کے مانند تعبیر کیا گیا ہے جس کا ظاھر حسین و جمیل اور باطن زھر الود ہے ۔

پانچ: دشمنی کی پیداوار

شیطانی اور سامراجی طاقتوں کا ایک دائمی عمل لوگوں میں اختلاف پیدا کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل ہے ، اس عمل کا مبتکر اور موجد شیطان ہے ، قران کریم کا اس سلسلہ میں اعلان ہے کہ شیطان تمھارے درمیان شراب اور جوئے کے ذریعہ دشمنی ڈال کر اپنے مقاصد کی تکمیل کرتا ہے ، « إِنَّمَا یُرِیدُ الشَّیْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ ؛ شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں یاد خدا اور نماز سے روکے توکیا تم باز آجاؤگے؟» ۔ (۳)

چھ: قدم بہ قدم فساد انگیزی

شیطان اپنے اھداف تک پہنچنے کے لئے قدم بہ قدم کے طریقہ کار کو اپناتا ہے ، از جملہ فحشاء اور منکرات کے میدان میں اسی طریقہ کار کو اپناتا ہے ، اسی بنیاد پر قران کریم نے فرمایا : «وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ؛ اے ایمان والو شیطان کے قدموں پر نہ چلو اورجو کوئی شیطان کے قدموں پرچلے گا سو وہ تو اسے بے حیائی اور بری باتیں ہی بتائے گا»   ۔ (۴)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱: قران کریم ، سوره صافات ، آیت ۱۰۲ ۔

۲: قران کریم ، سورہ محمد (ص) ، ایت ۲۵

۳: قران کریم ، سورہ مائدہ ، ایت ۹۱ ۔

۴: قران کریم ، سورہ نور ، ایت۲۱ ۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
3 + 4 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 24