امیرالمؤمنین علیہ السلام کا صلب مطھر

Thu, 02/02/2023 - 06:11

وہ نور جو عرش الہی سے جلا تھا یکے بعد دیگرے أنبیاء و أوصیاء میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ جناب عبد المطّلب سلام اللہ علیہ تک پہونچا اور اس کے بعد وہ نور دو حصّوں میں تقسیم ہوا؛ ایک نور عبد اللہ سلام اللہ علیہ کی پیشانی مبارک میں جو بعد میں جناب آمنہ رضوان اللہ علیہا کی پیشانی مبارک میں آیا اور پھر خاتم الأنبیاء صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے چہرے میں منتقل ہوا اور نور کا دوسرا حصّہ ابو طالب سلام اللہ علیہ کی پیشانی مبارک مستقر ہوا۔

خدا نے جناب ابوطالب سلام اللہ علیہ کو کئی بیٹے دئے ؛ عقیل، طالب، جعفر، فاختہ یا أمّ ہانی، جُمانہ اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام۔

جس وقت خدا نے حضرت ابوطالب سلام اللہ علیہ اور فاطمہ بنت أسد رضوان اللہ علیہا کو علی علیہ السلام کے نورانی وجود سے نوازا، وہ نور فاطمہ بنت أسد رضوان اللہ علیہا کے چہرے پر تجلّیاں بکھیرنے لگا ۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولادت

تمام مورخین اس بات کے معترف ہیں کہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی جائے ولادت اشرف البقاع یعنی بیت اللہ الحرام ہے ، حرم کی بہترین جگہ مسجد ہے اور مسجد کی عظیم ترین جگہ کعبہ ہے ، اس جگہ پر آپ علیہ السلام کی ولادت ہوئی نیز اپ علیہ السلام کے سوا کوئی مولود اس جگہ پیدا نہیں ہوا ۔ [1]

امیرالمؤمنین علی ابن طالب علیہ السلام نے تین دن تک آنکھیں نہیں کھولیں یہاں تک کہ انہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اس وقت آپ علیہ السلام نے آنکھیں کھولیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: « اس نے اپنی نظر کے لئے مجھے انتخاب کیا اور میں نے اپنے علم کے لئے اسے منتخب کیا» [2] اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے انہیں آغوش میں لیا اور ابوطالب علیہ السلام کے گھر لیکر گئے۔ [3]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

1. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام ، ج 2، ص 200 و بحار الانوار، ج35، ص19.

2. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام ، ج 2، ص 205 و بحار الانوار، ج38، ص294 .

3. کشف الغمّة : ج 1، ص 59.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
13 + 4 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
ur.btid.org
Online: 87