آغاز امامت

 فلسفہ امامت اور صفات امام
07/04/2019 - 13:22

اٴَحْییٰ بِهِمْ دینَهُ، َواَٴتَمَّ بِهِمْ نُورَهُ،۔۔۔۔۔۔۔اوصیائے (الٰہی) وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ خداوندعالم اپنے دین کو زندہ رکھتا ہے، ان کے ذریعہ اپنے نور کو مکمل طور پر نشر کرتا ہے، خداوندعالم نے ان کے اور ان کے (حقیقی) بھائیوں، چچا زاد (بھائیوں) اور دیگر رشتہ داروں کے درمیان واضح فرق رکھا ہے کہ جس کے ذریعہ حجت اور غیر حجت نیز امام اور ماموم کے درمیان پہچان ہوجائے۔ اور وہ واضح فرق یہ ہے کہ اوصیائے الٰہی کو خداوندعالم گناھوں سے محفوظ رکھتا ہے اور ان کو ہر عیب سے منزہ، برائیوں سے پاک اور خطاؤں سے دور رکھتا ہے، خداوندعالم نے ان کو علم و حکمت کا خزانہ دار اور اپنے اسرار کا رازدار قرار دیا ہے اور دلیلوں کے ذریعہ ان کی تائید کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو پہر تمام لوگ ایک جیسے ہوجاتے، اور کوئی بھی امامت کا دعویٰ کر بیٹھتا، اس صورت میں حق و باطل اور عالم و جاہل میں تمیز نہ ہوپاتی۔[الغیبة، طوسی، ص 288، ح 246۔]

 امام کا دائمی وجود
06/26/2019 - 22:12

اٴَنَّ الْاٴَرْضَ لاٰ تَخْلُو مِنْ حُجَّةٍ ،إِمّٰا ظٰاهِراً وَ إِمّٰا مَغْمُوراً؛”بے شک زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہے گی، چاہے وہ حجت ظاہر ہو یا پردہ غیب میں“۔[الخرائج والجرائح،ج 3، ص 1110، ح26۔]یہ حدیث امام مھدی علیہ السلام کی اس توقیع کا ایک حصہ ہے جو آپ نے عثمان بن سعید عمری اور ان کے فرزند محمد کے لئے تحریر فرمائی ہے۔امام علیہ السلام بہت زیادہ تاکید کے بعد ایک مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: روئے زمین پر ہمیشہ حجت خدا کا ہونا ضروری ہے اور کبھی بھی کسی ایسے لمحہ کا تصور نہیں کیا جاسکتا جو امام معصوم کے وجود سے خالی ہو۔

Subscribe to آغاز امامت
www.welayatnet.com
Online: 12